کیا بات ہے تیری ”چیرن“

ایک قصبہ، جس کے باسیوں نے لڑکر غنڈوں کے ساتھ سیاست دانوں اور پولیس سے بھی نجات حاصل کرلی۔ تشدد سے بھرے میکسیکو کے اس علاقے میں مکمل امن وسکون، جمہوریت اپنے اصل معنی میں قائم ہوئی میکسیکو کے قصبے چیرن (Cherán )میں خُنک اور بادلوں سے ڈھکی شام اُتر آئی ہے۔ یہ جولائی کا وسط ہے۔ میکسیکو کے قدیم باشندوں Purépecha کا ایک گروہ مقامی اسکول کے صحن میں جمع ہے، یہ اجتماع دراصل باقاعدہ سے ہونے والی کمیونٹی اسمبلی ہے۔ اسٹیل کی صحن پر پڑی اسٹیل کی چادر پر پڑتی بوندیں اور کھیل کود میں مصروف بچوں کے شور سے فضا گونج رہی ہے۔ اس چھت کے نیچے گہری نیلی شالیں اوڑھے خواتین اور جنگل سے کام نمٹا کر آنے والے بوڑھے اور نوجوان تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔ اکٹھ یا اسمبلی کی شروعات ایک نوجوان ”آرڈر آف دی ڈے“ پڑھ کے کرتا ہے۔
لوگوں کو توقع تھی کہ قصبے کے 6 لاکھ 73 ہزار 563 ڈالر پر مبنی سالانہ میزانئے پر پوری تفصیل سے بات ہوگی اور ایک ایک سینٹ کا حساب پیش کیا جائے گا۔ ان کے نزدیک پبلک ورکس آفس کے چار اراکین کو عوام کے پیسے سے تعمیر کردہ سڑکوں، گلیوں اور دیواروں پر خرچ کردہ ہر ”پینی“ کے بارے میں بتانا چاہیے۔ حکام کی جانب سے پیش کردہ کچھ اعدادوشمار حاضرین کے لیے معقولیت پر مبنی نہیں تھے۔ ایک شخص نے اپنا ہاتھ اٹھا اور ایک ہی موضوع پر کوئی درجن بھر سوال کرڈالے۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایک پہاڑی پر سیڑھیاں بنانے کے لیے 6 ہزار 270 ڈالر خرچ کرنے کی بات کیوں کی جارہی ہے، جب کہ یہ مجموعی لاگت 5 ہزار405 ڈالر ہے ؟ ”باقی کے پیسے کہاں گئے؟“ اس نے پوچھا۔ ”ہر چیز کا ثبوت موجود ہے۔“ حکام میں سے ایک Domingo Tapia نے جواب دیا۔ اسے اپنے منصب پر فائز ہوئے ابھی ایک سال گزرا تھا، اور یہ منصب مقامی آبادی نے اسے کڑی چھان بین کے بعد عطا کیا تھا۔ ”خریداری کی کچھ دستاویزات ہم سے کھوگئی ہیں۔“ اس کے لہجے میں شرمندگی اور جھجک تھی۔ ”فضول جواب۔“ ایک عورت نے اس عذر پر اسے ڈانٹ پلادی۔ ”ہم بہت سے معاملات میں غلطی کرسکتے ہیں، مگر اعدادوشمار میں نہیں۔“ اسے نے اپنی بات جاری رکھی،”تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے دستاویزات کھودیں۔ ہم حساب کتاب میں شفافیت چاہتے ہیں۔ اگلی بار آو¿ تو بہتر ہوگا کہ ٹھیک ٹھیک اعدادوشمار لے کے آوں۔“ چیرن کے باسی اس طرح کے اجتماعات سے بہت مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ سب ہونا پانچ سال پہلے تک ممکن نہ تھا۔ میکسیکو کی ذیلی ریاست Michoacán کے دیگر علاقوں کی طرح چیرن بھی مُنظّم جرائم اور استحصال کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اغوا، دھمکیاں اور درختوں کی غیرقانونی کٹائی روز کا معمول تھا۔ اس قصبے کے لوگ خود کو کم زور، بے وقعت اور غیرمحفوظ خیال کرتے تھے، کیوں کہ نہ تو پولیس اور نہ ہی مقامی انتظامیہ انھیں تحفظ فراہم کرنے کی اہل تھیں، نہ ہی اس کی خواہش مند۔ لیکن پھر 15اپریل 2011 کا دن آیا، اور چیزیں تیزی سے تبدیل ہونے لگیں۔ استحصال، غنڈاگردی اور بدعنوانی سے عاجز آجانے والے اس قصبے کے باسی سرجھکا کر اور حالات کو قسمت کا لکھا جان کر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہ سکتے تھے، مگر انھوں نے عزت اور حمیت کا راستہ چُنا، اور راہ بری کا فریضہ صنف نازک نے انجام دیا۔ انقلاب کا آغاز قصبے کی عورتوں کے خفیہ اجلاسوں سے ہوا، جہاں غنڈوں سے نبردآزما ہونے کے لیے منصوبے ترتیب دیے گئے۔ یہ سب ایک ایسے ماحول میں ہورہا تھا جہاں قتل اور اغوا روزوشب کا حصہ تھے۔ جہاں نقاب پوش (نامعلوم افراد!) قصبے میں منڈلاتے اور اسلحے کے زور پر چھوٹاموٹا کاروبار کرنے والوں سے من مانا بَھتّا وصول کرتے تھے۔ قصبے کے باسی کوئی تین سال سے دیکھ رہے تھے کہ ان کا محبوب اور معاشی کفیل جنگل اجاڑا جارہا ہے۔ ان کے گھروں کے سامنے سے ٹرک کے ٹرک گزرتے، جن پر جنگل سے کاٹے گئے ہرے بھرے پیڑوں کی شاخیں اور تنے لدے ہوتے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں