یورپ اور پاکستانی 

سنو یہ جو ہم ویڈیو اور سلفیاں بنا کر فیس بک پر آپکو سینڈ کرتے ہیں آپ انکو دیکھ کر بڑے متاثر ہوتے ہیں لیکن یہاں زندگی یکسر مختلف ہے
پہلی بات یہ ہے آپکو جو لوگ بڑے ڈسکو ڈسکو بوا ئے نظر آتے ہیں
یہ بچارے سارا دن خنزیر کا گو شت پکانے میں اسکے برتن مانجنے میں ہوٹلوں میں مصروف نظر آتے ہیں
اوپر سے صفائی کرنا بھی انکی ڈیوٹی میں شامل ہوتا ہے .
آپکو ان کے کام والی حالت کی فوٹوز ویڈیو نظر نہیں آئیں گی
اگر وہ حالت آپکو نظر آ جائے تو آپ بھی یورپ کا نام نہیں لیں گے
جب یہ کسی میرے جیسے غریب پاکستانی کو ملیں گے تو پھر ان کی پھوٹیں ایسی سننے کو ملیں گی آپ توبہ توبہ کر کہ اٹھیں گے
کوئی اپنے علاقے کا جاگیر دار ہوگا کسی کی سونے کی کانیں ہونگی کوئی اپنے باپ کو نواز شریف کا دوست بتا رہا ہوگا
اور کوئی اپنے آپکو علاقے کا الطاف حسین جیسا ثابت کرنے کی کوشش میں ہوگا.
یہاں آپکو انسانیت ضرور ملے گی لیکن انسان مشکل ہی کوئی نظر آئے گا
خاص کر پاکستانیوں نے تو حد ہی کی ہوئی ہے نا ملک سے ہمدردی نا کسی ملکی سے ہمدردی نا غم نا خوشی کے بھائیوال
یہاں آپ کو کوئی بغیر مطلب کے سلام تک نہیں دے گا ایک دوسرے سے چھپ چھپ کر گزریں گے کہیں چائے یا کافی کا کپ نا
پلانا پڑ جائے.
رھنے سہنے کا ماحول چنگڑوں سے بھی بدتر ہوگا پاس سے گزریں گے تو محسوس ضرور ہوگا کوئی پاکستانی گزر رہا ہے.
یاد رکھیں میں اکثریت کی بات کر رہا ہوں چند ایک ٹھیک بھی ہیں.
کسی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں نا اپنے ملک کے حالات کا معلوم ہے نا دلچسپی ہے بس فکر ہے تو یورو کمانے کی زندگی میشین بنائی ہوئی ہے
بس چھٹی والے دن گھٹیا قسم کے سیگریٹ اور بئیر شراب پی لینا اور ڈگی اوپر کر کہ سو جانا یہ انکی زندگی ہے.
ماشاء اللہ اب تو کافی پاکستانی چرس بھی پی رہے ہیں اور ضرورت کی چیزیں بھی چوری کر لیتے ہیں
ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کرنا اور پکڑے جانا بھی ان کا مقبول مشغلہ ہے.
ٹھرک پن کی وجہ سے کئی مرتبہ بےعزت ہونے کے باوجود بھی ہم نے ٹھرک پن نہیں چھوڑا .
میں نے تو ایک فیصلہ کیا ہے ان ہستیوں سے دور ہی رہا جائے جن کو اپنے ہم وطنو کا احساس نہیں.
کاش میرے ملک کے حالات اچھے ہوتے تو کم از کم گدھے تو یہاں سمگلنگ نا ہوتے اور ان سے وہاں ہی کام لیا جاتا.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں