سفر ہائے ہائے نامہ۔۔قسط نمبر3

مے نیجر ساب: اشاااا تو ایک ٹینٹ خالی تھا؟

گاڑی سے نکل کر اندھیرے کی سمت چلنے لگے۔  عبدالشدید زخمی ہلکی ہلکی آوازیں دیتا(وہ گالیاں بھی ہو سکتی ہیں) اور ساتھ ٹارچ جلاتا بجھاتا رہا۔ شاید شدید غصے میں زخمی کو چھوڑ کر بھاگ گئے سالے پر سب اپنی دھن میں چلتے رہے, کافی دیر ریت پر خاموشی سے چلنے کے بعد بزوکے نے سوٹا لگاتے ستاروں کی گردش سے بات شروع کی۔ ستاروں کی چال سے رات کے پہروں کا اندازہ کرنا, سمتوں کا تعین کرنا, بزوکا کش کے بعد فلسفی ہوا ہی تھا کے پائلٹ نے میدان سنبھال لیا۔

سامنے تین روشن بتیوں کی طرف اشارہ کر کے کیپٹن عبدالرضیہ سے کہنے لگا, یہ تین ستارے مکمل نوے کے زاویے کی ایک مثلث بنا رہے ہیں غور سے دیکھو, کیپٹن جو کہ ریاضی میں ہمیشہ ہاتھی کا انڈہ لاتی تھی) نے بڑے غور کے بعد پائلٹ سے کہا یہ ستارے نہیں بلب ہیں, پائلٹ نے زور دیا نہیں یہ ستارے ہیں۔ دور سے آسمان زمین سے ملا ہوا لگتا ہے, اور ہم جہاں کھڑے ہیں یوں لگتا ہے جیسے آسمان کے گنبد کے عین نیچے ہیں۔ بس وہ ستارے ہی ہیں, کیپٹن نے بزوکے کو دیکھا, پھر پائلٹ کو دیکھا اور دل میں کہا ‘ چڑھی ہے سالے کو۔ زمین پہ تارے ہی دکھائی دیں گے۔

بزوکے نے پھر اپنا ڈائیلاگ مارا’ کیسے کر لیتے ہو پائلٹ۔۔ کیسے؟ ‘ پائلٹ ٹانڈے نے کیپٹن کو کن اکھیوں سے دیکھا اور بزوکے کا ہاتھ دبایا جسکا یہی مطلب تھا ‘ اوے بزوکے کیپٹن نوں وی چڑھ گئی اے۔ بیچارا بزوکا پریشان ہو گیا کہ کتھے پھس گیا آں-

کچھ دیر کو چاروں طرف خاموشی پھیل گئی۔ دور گاڑی کے اندر نیلی مدھم روشنی گھپ اندھیرے میں آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھی, صحرا پہ عجب خوشگوار سکوت طاری تھا۔ کہیں کسی جانوروں کی دور سے آتی آواز, وقفے وقفے کے بعد ریت پہ سرسراہٹ,  ہوا کے نرم جھونکے جسم کو چھو کر گزرتے تو تازگی کا احساس جاگ اٹھتا, شہرکے شوروغل سے اٹی زندگی سے پرے, نا گاڑیوں کا شور, نا آدمیوں کا جنگل, نا ہوا میں تلخی, نا ذہن و دل پر دباو, ہر چیز دھلی دھلی لگ رہی تھی, بزوکے کے سگریٹ جلانے پر لائٹر کے کلک نے سکوت توڑا۔ کیپٹن نے ایک آہ بھری, کھڑے رہ رہ کر اب سب کا بیٹھنے کو جی چاہا, کیپٹن نے کہا چلو یہیں زمین پہ ہی بیٹھ جاتے ہیں, تینوں کی محفل ایک بار پھر گرم ہوئی, اتنے میں عبدالشدید زخمی نے نعرہ لگایا, اور سب کی توجہ گاڑی کی طرف چلی گئی, پائلٹ کو اب نیند سے آسمان گھومتا دکھائی دے رہا تھا, گاڑی تک سب ایک دوسرے سے باتیں کرتے چلتے گئے۔ عبدالشدید زخمی گاڑی سے باہر ایک ٹانگ پہ کھڑا آسمان پہ تارے گن رہا تھا۔ پائلٹ نے جگہ خالی دیکھی اور موقعے کا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے چادر تان کے لیٹ گیا-

کیپٹن پیاس سے بے حال ہوئی جا رہی تھی۔ پانی کی بوتل جس سیٹ باکس میں تھی اس پہ مے نیجر ساب ٹن پڑے تھے, ان کو ہلاتے تو ایک ہی جواب ملتا, گاڑی خلا میں گول گول گھوم رہی ہے, میں گرنے لگا ہوں, کیپٹن کو فٹے منہ کہہ کر جوس اٹھاکر باہر آ گئی۔ گاڑی میں چوکور ڈبہ ہی نظر آتا تھا۔ کسی کا سر کسی کے پاؤں پر تو کسی کا پاؤں کسی کے سر پر۔ کیپٹن کا جی چاہا سب کو ایک ایک لگا کر بٹھا دے کر یہاں نیندیں پوری کرنے آئے تھے یا صحرا چھاننے؟ خیر سب کی معصوم شکلیں دیکھ کراسے ترس آ گیا۔

کیپٹن کھانے کی چیزیں اٹھا کے بزوکے اور عبدالشدید زخمی کے ساتھ کیمپ میں چلی گئی, کیمپ کا عالم یہ تھا کے نا نیچے میٹرس نا اوپر چادر, اور مے نیجر ساب کے انتخاب کی داد تو بنتی ہے کہ زمین بھی ایسی چُنی کہ رات کوکروٹ لیتے پچھلے گناہ یاد آ جائیں, خیر تینوں نے ایک ایک کونا پکڑا اور سیدھے ہو لیے, کھانے پینے کا سامان درمیان میں رکھا اور سگریٹ کے دھویں میں مست ہو گئے-

کافی وقت گزرا۔ باتیں آج کے دور سے چلتی بچپن کی حدود میں داخل ہو گئیں۔ بچپن کے کھیل کود سے پھلانگ کر عبدالشدید زخمی اب ٹونکل ٹونکل لٹل اسٹار پہ پہنچ چکا تھا۔ نجانے سوٹے لگانے  کے بعد سب ستاروں پہ ہی کیوں اٹک جاتے ہیں۔ گھومتےگھومتے بات اب پیاسے کوے اور بھوکے کتے پہ آ چکی تھی۔ جس طرح آج کل گانوں کے میش اپ جلتے ہیں, اسطرح عبدالشدید زخمی کی کہانی شروع ہوئی اور ایسی ہوئی کے پھر اس کہانی کو انگور کھٹے ہیں پر بریک لگی۔ اس پر عبدالشدید زخمی نے چِھس کی آواز سے پیپسی کا کین کھولا, ایک دو گھونٹ بھرے اور درمیان میں رکھ دیا۔ بزوکے اور کیپٹن کا ہنس ہنس کرحال برا ہو چکا تھا۔ سگریٹ کے

دھوئیں سے کیمپ بھر چکا تھا۔ بزوکا نازک طبعیت کا مالک  کیمپ سے باہرچلا گیا۔ آہستہ آہستہ کیپٹن اور بھالو زخمی بھی باہر نکل آئے۔

ہر طرف مکمل سناٹا, دور دور تک بس صحرا اور لمحوں میں آتی یخ ہوا, سب نے اپنی اپنی جیکٹ پہن رکھی تھی ,بس کیپٹن نے اپنی  پینٹ کے علاوہ باقی سب ہی ادھار کا پہنا ہوا تھا۔ ایک بار پھر بھالو زخمی کو لیے چہل قدمی کرتے کیپٹن اور بزوکا اندھیرے میں کیمپس سے کافی دور نکل آئے, خاموشی میں سگریٹ ایک دوسرے کو پاس کرتے بس جو گفتگو ہوتی وہ آنکھوں سے ہی ہوتی,عبدالشدید زخمی کو بھی اب ٹھنڈی زمین پہ بٹھا دیا گیا تھا۔

اس بیچ کے لمحات جیسے خلا میں ہی گزرے ہوں۔ ہر کوئی اپنی ایک الگ دنیا میں گم, کیپٹن نے گاڑی کی طرف نظر کی تو سب دنیا سے دور کسی اور عالم میں جاتے معلوم ہوئے۔ عجب سی خواہشات امڈتیں  اور سوالات ابھرتے۔  کیا زندگی ہمیشہ اسی تسلسل سے چل سکتی ہے؟ نا فکر ہو, نا دنیا کے تماشے, نا جہان کے ہنگامے, بس سکون ہو جو اندر سے پھوٹے, خاموشی ہو اور اسقدرہو کہ دھڑکن کی آواز بھی شور محسوس ہو۔

عبدالشدید زخمی اب بیٹھ  بیٹھ کر بیزار ہو چکا تھا۔ خاموشی کی جھیل میں پہلا کنکر ڈالتے ہی سب جل تھل, خیالات ٹکڑوں میں منقسم ہو کر تاروں کے ساتھ بکھر گئے۔ آسمان اور روشن ہوگیا۔  آدھے چاند کی چاندنی بھی بھرپور, کیمپ کی طرف واپس لوٹے تو فیصلہ ہوا سب کے سب مے نیجر ساب والے کیمپ میں ہی ڈیرا ڈالیں گے, مگر ممکن نا ہوا کیونکہ کیمپ میں جاتے ہی بزوکے نے پپپسی کا ٹن انڈیل دیا۔ اب کیمپ اس قابل نا رہا کے اس میں سویا یا کھل کے بیٹھا ہی جا سکتا ہو۔ پاس ہی بزوکے کا خاندانی کیمپ لگا تھا, بس ایک لات ایک کیمپ  سے دوسرے میں رکھی اور پار ہو لیے, البتہ عبدالشدید زخمی کے لیے مصیبت بن گئی۔ ایک بار پھر سب اپنے اپنے چنیدہ کونے میں سکون سے بیٹھ چکے تھے۔ بزوکے نے فل ماحول بنا رکھا تھا,

بیچارے چھوٹے سے کیمپ میں سگریٹ تو جلا لی مگر اس کی کھڑکی باہرکی جانب سے کھلتی تھی۔ اتنے میں عبدالشدید زخمی کی طبعیت میں ناخوشگوار قسم کی تبدیلی رونما ہوئی , بزوکا باہر بھاگ گیا, اور کیمپ کو گھسیٹ کے جگہ بدلی۔ کھڑکی کھولی اور پھر اندر آیا, آدھی رات تو کیمپ سے کشتی میں گزر گئی, کیپٹن اور بزوکا تو سر جوڑے لیٹے تھے, بزوکے کے شریعی قسم کے پردے کے پیش نظر کیپٹن عبدالرضیہ ایک ہی جگہ پہ جم کے لیٹیں کہ کہیں بزوکے معصوم کو اپنی عزت کا خطرہ لاحق نا ہو جائے, عبدالشدید زخمی اب ڈی جے کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ ایسی لوریاں سنائیں کے بس صحرا میں کیمپ کی کھردری چبھنے والی زمین اور ٹھنڈ دونوں ایک طرف ہو گئے اور کچھ لمحوں میں کچی پکی آنکھ لگ گئی-

ٹینٹ کے باہر وقفے وقفے سے سرسراہٹ ہوتی رہی۔ بزوکا شاید سو رہا تھا,کیپٹن آدھی سوئی آدھی جاگی کیفیت میں تھی, عبدالشدید مکمل جاگ رہا تھا اور ٹینٹ سے باہر نظارے لے رہا تھا, ادھر گاڑی والی عوام میں ہلچل مچ چکی تھی, ڈورا نے دو بجے عوام کو ملکی وے کی تصویر کشی کرنے کو جگا دیا۔ ملتانی ملو جھٹ سے اٹھ کے کیمرہ پکڑے باہر بھاگا۔ مے نیجر ساب کی بتی ابھی تک گل تھی, کیمرے کی اسکرین پہ ستارے بھی ڈسٹ پارٹیکلز لگ رہے تھے اور ستاروں کا یہ عالم تھا کے مے نیجر ساب خلا میں ہی گھومتے رہ گئے, ٹائم زون سے ایسا باہر نکلے کے ملتانی ملو سے ٹائم پوچھ پوچھ کے اسکا دماغ ہی ہلا دیا, ڈورا اپنا کام کر کے واپس ٹن ہو گئی, عبدالشدید زخمی اب انہماک سے ستاروں کے پیچھے پاگل پھرتے فوٹوگرافرز کو دیکھ دیکھ کے لطف اندوز ہوتا رہا, یہ سلسلہ رات دیر تلک چلتا رہا۔ عبدالشدید کو غش آگئے اور ساتھ ٹھنڈ۔ ہمت کر کے گاڑی تک گیا اوراوڑھنے کو چادر لے آیا, آتے ہی درویش نے بزوکے کو سوتیلا جان کے پرے کر دیا اور کیپٹن پہ اور خود پہ چادر ڈال کے سو گیا,کیپٹن کی آنکھ کھلی اس نے چاہا کے بزوکے کو کہے شریعی پردہ کرنا ہے یا سلامت گھر جانا ہے, تھوڑی چادر لے لو, پر پھر کیپٹن بھی ڈھیٹ بن کے سو گئی-

فجر کی اذان کے قریب مے نیجر ساب اچھی طرح تروتازہ سے جاگے, بوٹ کسے, اپنے بھائی ملتانی ملو کو بھی جگایا۔بڑے تیز بنے جیسے ہی گاڑی سے اتر کر جانے لگے تو ڈورا میسنی بھی اٹھ کے بیٹھ گئی کے میں نے بھی ساتھ ہی جانا ہے, دونوں ندیدوں نے دیدے پھاڑ کے ڈورا کی طرف دیکھا اور اسے بھی ساتھ لے کے پائلیٹ سے سوتے سوتے اتنا ہی کہا کے جب جاگو تو قلعے میں سب سمیٹ کے آ جانا, آگے چلیں گے, اتنا احساس نا ہوا کے باقی کی عوام ان کی بوتھیاں دیکھنے کے واسطے نہیں قلعہ دیکھنے کے لیے ہی اتنے دور آئی ہے, مگر اپنی عیش کو نکل پڑے, پیچھے سب سوئے رہے, ڈورا کچھ دیر ہی چلی تھی کے اسے ایک خاردار جھاڑی نے جکڑ لیا, جوتوں میں اس کے کانٹے چلے گئے, جسکی وجہ سے ڈورا کے پاؤں میں جبھن ہو رہی تھی۔مے نیجر ساب ہیرو پنتی کے چکر میں اپنا سوئیس نائف نکال کے جوتے کی ڈاکٹری کرنے لگے, ہر ایک اوزار آزما لیا کانٹا نہ ہلا البتہ جوتے کے سول کا نقشہ بگڑ گیا ڈورا اس وقت تک سمجھ چکی تھی کے ایک اعلی مے نیجر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک اعلی انجینئر بھی ہیں , ڈورا نے بچا کُھچا جوتا پہنا اور آگے چل دی-

چلتے چلتے ڈورا کا ضبط ٹوٹا, صحرا میں جھاڑیاں تو کافی تھیں جہاں بیٹھ کر کوئی بھی اپنا پریشر کم کر سکتا تھا مگر ڈورا کے سائز کے مطابق کوئی جھاڑی نا ملی, ذرا آگے جا کر ایک چھوٹا سا کھنڈر آیا, شاید پرانے دور میں یہ واش روم کے لیے ہی استعمال ہوتا رہا تھا, ڈورا نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور جلدی جلدی اسی میں جا کر بیٹھ گئی,مے نیجر ساب اور ملتانی ملو سورج طلوع ہونے کے شاندار نظارے اپنے کیمروں میں قید کرنے میں لگے تھے, ملتانی ملو اچانک کمیرے سمیت کھنڈر کی طرف مڑا اور لمحے بھر کے لیے سگریٹ منہ میں اور دھواں گلے میں اٹکا رہ گیا, ڈورا نے کھنڈر پہ نظر ڈالی, پانی کا کوئی انتظام تھا ہی نہیں, بنا کسی ذہنی دباو ڈورا نے مزے سے پیپسی کے کین کو کھولا تو گیس نکلنے کی وجہ سے شیییییی کی آواز آئی, آواز سن کر ڈورا کو موٹیویشن کیوجہ سے رفع حاجت کی تشنگی محسوس ہوئی,بنا ادھر ادھر دیکھے اس نے جلدی سے پیپسی کا ایک سپ گلے میں انڈیلا اور ایک جگہ اوٹ لے کر پیپسی نکالنے لگی ,فراغت کے بعد اسی پیپسی سے استنجا فرما کر ایک سپ اور گلے میں انڈیلا اور نیچے نظر دوڑائی تو معلوم نہ پڑتا تھا رفع کیا ہے اور پیپسی کیا ہے,سب کچھ ملاوٹ زدہ لگ رہا تھا, مے نیجر ساب تو دھڑا دھڑ تصویروں میں مصروف تھے البتہ دور کھڑا سوٹے لیتا ملتانی ملو یہ دیکھ کر کسی گہری سوچ میں غرق ہو چکا تھا-

مے نیجر ساب عباسی قبرستان کی طرف چل پڑے تھے, ڈورا حیرت میں گم ملتانی ملو کو مکمل دور دفع کر کے آگے نکل گئی اور ندیدہ ملو بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔عباسی قبرستان کے گیٹ پر پہنچ کر تینوں نے وہاں کے نگران سے بڑی منت سماجت کی کہ اندر جانے دیا جائے,ہم کیمرہ بھی نہیں لے کر جائیں گے مگر نگران نے ڈورا کی طرف نگاہ جما کر انکار کردیا۔اسے لگا کے ڈورا کے اندر پچیس کلو کا بم فٹ کر کے لایا گیا ہے, جو مردوں کو زندہ ہی نا کروا دے, آخری بات یہی ہوئی کے اجازت نامہ لایا جائے اور وہ اجازت نامہ لانے کے لیے دو دن کا سفر کوئی الو کا پٹھا بھی نا کرتا, وہ بھی صرف قبریں دیکھنے , ندیدوں نے باہر باہر سے ہی تصویریں لیں اور قلعہ دراوڑ کی طرف چل دیے, راستے میں اونٹوں والے سے جگاڑ لگانا چاہی کے صحرا دیکھنے کو اونٹ چاہئیے, وہاں بھی ڈورا کا سائز دیکھ کر اونٹ بھاگ کھڑے ہوئے, بیچ میں پانی کا ایک نل نصیب ہوا جس سے تروتازہ ہو کر تینوں قلعے میں داخل ہو گئے, سورج رفتہ رفتہ طلوع کے مراحل سے گزر رہا تھا, خوشگوار ہوائیں چل رہی تھیں, پیچھے والی عوام کو بھول بھال کر اب تینوں قلعے میں داخل ہو چکے تھے-

دوسری طرف کیپٹن عبدالرضیہ کی آنکھ کھلی اور وہ کیمپ سے باہر نکلی,سورج مکمل طلوع ہو چکا تھا مگر ابھی تک گرمی میں وہ شدت نا تھی۔ سات بج رہے تھے۔ پائلٹ لال شرٹ پہنے بزوکے کے ساتھ ادھر ادھر بھاگ رہا تھا, عبدالشدید زخمی نے گاڑی سے سر نکال کر خبر سنائی کے باقی کے تینوں مشٹنڈے قلعے کی طرف جا چکے ہیں اور کہا ہے کہ سب سامان پیک کر کے گاڑی لے کر وہیں آ جائیں تاکہ آگے چلیں۔ کیپٹن کا منہ غصے سے لال ہو چکا تھا, جلدی سے پانی کی بوتل نکالی منہ پہ پانی ڈالا, اور گاڑی میں جو رات بھر کا گند بنا رکھا تھا سب سمیٹا۔ بزوکے اور پائلٹ کو آواز لگائی کے ادھر مرو، کیمپس سمیٹو تو چلیں, ایک کیمپ اکھاڑ کر دس منٹ تک پائلٹ جہاز سمجھ کر اسے اڑاتا رہا, پھر کیپٹن اور بزوکے نے پکڑ کر اس کیمپ کو سمیٹا اور رکھ دیا۔ اب بااری تھی بزوکے کے خاندانی کیمپ کی جس کے ساتھ بیس منٹ کی کشتی کرنی پڑی ۔جلدی سے سب گاڑی میں بیٹھے, کیپٹن کو سخت غصہ تھا,گالیوں کی برسات کے ساتھ گاڑی سٹارٹ کی اور سب دھول اڑاتے قلعے کی طرف نکل پڑے-

(جاری ہے)

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں