سفرہائے ہائے نامہ

آپ یہ سب کیسے کر لیتے ہیں؟

بات ان دنوں کی ہے جب مے نیجر ساب کو بہت زوروں سے سفر آیا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مختصر سے ٹین ڈبے کے ساتھ باقی ساری ٹیم کو لیا اوع صحراوں کی خاک چھاننے نکل پڑے۔ٹیم میں ان کے ساتھ انکے دوست یار ہی تھے کیونکہ کسی کی مت نہیں وجی کے گرمیوں میں اپنی چربی پگھلانے صحرا کی خاک چھانے۔یہ دوستوں کا ہی ظرف تھا کے مے نیجر ساب کے پاگل پن کے اچانک دورے پہ لبیک کہا اور سامان باندھ کر تیار ہولئے۔فجر کے وقت کپیٹن عبدالرضیہ اسٹیشن پہنچیں۔ مے نیجر ساب اور ڈورا دونوں ہی ان کے منتظر تھے۔ کیپٹن عبدالرضیہ نیند سے ہچکولے کھاتے گاڑی کے دروازے سے نکلیں تو ٹھنڈ سے کپکپانے لگیں۔

سامان مے نیجر ساب کے سر پہ لادا اور انکا کوٹ اتار کر خود پہن لیا۔ ڈورا کو کیونکہ بھوک سے دورے پڑ رہے تھے تو ایک ڈھابے پہ بیٹھ کے مے نیجر ساب کے خرچے سے آلو کے پراٹھے اچاراورانڈے کے ساتھ مزے لوٹ کے کھائے۔ مے نیجر ساب ندیدوں کی طرح  دیکھتے رہے۔ ناشتے کے بعد باقی کی عوام کو بلانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا, مگر وہ اپنی من مرضی سے گھنٹے بعد تشریف لائے۔ پائلیٹ ٹانڈا گاڑی کی ماسٹر سیٹ پہ اسٹئیرنگ پہ حق جمائے ایسے بیٹھا تھا جیسے یہ اسے جہیز میں ملا ہو۔ ساتھ ہی دوسری سیٹ پہ مسٹر بزُوکا کُکی پہلوان کے انداز میں براجمان تھے, جبکہ دروازہ کھلتے ہی پیچھے سے جب بھالو عبدالشدید(جو کے بعد میں عبدالشدیدزخمی قرار پائے) نے اپنا وڈا منہ نکال کے چااا کیا ,تو سب کا بے ساختہ ہی تراہ نکل گیا۔ ڈورا میسنی نے جلدی جلدی گاڑی کا جائزہ لیا اور اپنے سائز کے مطابق سب سے مست جگہ لے کر پھیل گئی۔ کیپٹن عبدالرضیہ نے تو مے نیجر ساب کے ساتھ نیچے ہی بستر لگا لیا۔بھالو البتہ سیٹ پہ لٹک کر بیٹھ گیا-

سفر کی شروعات پہ ہمارا پہلا ٹارگیٹ ملتانی مَلّو کو اٹھانا تھا۔ گاڑی اب سڑک پہ ملتانی ملو کو اٹھانے کے لیے رواں دواں تھی۔ پائلیٹ ٹانڈا اپنی ننی مونچھوں کو بل دیتے گاڑی اڑا رہا تھا, سورج آہستہ آہستہ آدھے سے پورا ہوتا گیا اور ساتھ ہی اپنی حدت بھی بڑھاتا گیا۔ کیپٹن عبدالرضیہ کے رعب اور ڈورا کے وزن سے گھبرا کے بزوکے نے شرعی پردہ کر لیا۔ ساہیوال پہنچےتو ڈورا نے نعرہ لگایا فوجی ٹی سٹال, بس پھر بھوکی عوام نے اتر کر ناشتے کی خوب درگت بنائی, پر مے نیجر ساب بیچارے دہی پہ ہی خوش ہو گئے۔ اس کے بعد سب ویسے ہی اپنی اپنی جگہ جم کر بیٹھے اورسفرپھر سےشروع ہوا۔

بھالو عبدالشدید نے موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جھٹ سے اپنا شیطانی ڈبہ نکالا اور برائے نام شریف النفس مے نیجر ساب کے معصومانہ جرم کی ویڈیو بنا ڈالی, مے نیجر ساب جنکا مقولہ ہے کے ‘ سُتا مویا ہک برابر’ ان کو کس بات کی فکر تھی انکے تو پہلے ہی اشتہار لگتے تھے۔کچھ وقت گاڑی میں غضب کی نیند طاری ہوئی, ایک جھٹکے پہ سب جو اٹھ بیٹھے تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا, کیپٹن عبدالرضیہ کی ٹانگوں پہ منوں وزنی بھالو عبدالشدید گاڑی کی آرام دہ سیٹ کے ساتھ پڑا ہائے ہائے کر رہا تھا۔ مجال ہے جو اس ہائے کی آواز بھی آئی ہو بس شکل کے نقشے ہی آڑھے ترچھے ہوئے, بھلا ہو مے نیجر ساب کا جنکو خیال آیا کے ایک کے نام کے ساتھ تو لہو لگ ہی گیا۔ اب دوسرے کی ٹانگیں تو بچائی جا سکیں, جھٹ سے ٹانگیں نکالیں, عبدالشدید زخمی کا پیر لہولہان تھا, انجینیئر بزوکا نے جلدی سے فرسٹ ایڈ دی, پائلیٹ ٹانڈا کے آٹومیٹک اڑن کھٹولے کو دو پیارے بول سنائے اور دریافت کیا کہ آخر معاملہ کیا ہوا, فرمایا’ بس بچت ہو گئی ورنہ ہم سب جنت میں شراب نوش فرما رہے ہوتے۔ بھلا ہو ان ٹرک کی لال بتیوں کا جو جنت کی سیر کروا دیتی ہیں, ایک دوسرے کو تسلی دی,عبدالشدید زخمی کی تو جیسے ہائے ہی اٹک گئی ہو, ملتانی ملو کو فون کیا کے ٹیکے شیکے تیار رکھ ہم آئے, اتنے میں کیپٹن عبدالرضیہ اپنی دوکان کھول کر بیٹھ گئیں, درد کی دوا کھلائی, پاؤں پہ جل لگائی، پٹی باندھی, مکمل طور پہ غیر مشرقی سفر تھا ورنہ عبدالشدید زخمی کو تمام مشرقی مردوں کی طرح اس وقت تک کیپٹن عبدالرضیہ سے ایک سو سنتالیسواں اور کٹر آخری پیار ہو جاتا-

سین بدلہ, اب تک عبدالشدید زخمی کافی حد تک فام میں آ چکا تھا, انجینئر بزوکا پائلیٹ ٹانڈے سمیت شرعی پردے سے باہر آ چکے تھے,مے نیجر ساب اپنی پہلی اور آخری محبت انکا کیمرہ اسی میں مگن تھے اور کیپٹن عبدالرضیہ سٹائل سے بیٹھی اپنے بیگ سے مال نکال رہی تھی, اسی چکر میں پائیلٹ ٹانڈے نے بنا بریک شریک کا اشارہ دیے گاڑی کو محبت سے جھٹکا دیا, اب کی بار کیپٹن عبدالرضیہ نے بھالو عبدالشدید زخمی پہ گِر کر اپنا بدلہ پورا کر لیا,زخمی بھالو کا تو جیسے سارا خون ہی پیلا ہو گیا ہو, بیچارے کا منہ اتر کر ہاتھ میں ہی آ گیا, ڈورا سارے سفر میں فکس ہو کے بیٹھی رہی, ظاہر ہے اسکا سائز ہی ماشاء اللہ کیا کہنے,چربی مکمل سیٹ پہ جمی پڑی تھی, نا چربی ہلی نا ڈورا۔ مے نیجر ساب کو جلدی سے اپنی پہلی اور آخری محبت سے نکل کر درمیانی محبت جو کہ ابھی ابھی جاگی ہی تھی کے ڈورا اور عبدالشدید زخمی کی بنائی ویڈیو کا سن کے اختتام پذیر ہو گئی کو اپنے نسوانی مگر غضب کے سخت جان ہاتھوں سے اٹھایا,اور پیار سے پاس بیٹھا دیا-

ملتانی ملو کے گھر کے دروازے تک کا سفر کبھی واش رومز جاتے تو کبھی اللہ اللہ کرتے گزرا, نا ہی کوئی انگریجی گانا سنا, نا ڈھول دھمال ہوا, سب آنکھیں پھاڑے اپنے آپ کو گاڑی سے چپکا کے بیٹھے رہے, یہ تو ڈورا کی سیٹ کا ہی ظرف تھا جو ابھی تک وہ لیٹی رہی, ملتانی ملو ایک نمبر کا کوئی مینارِ پاکستان کا عاشق لگتا ہے, دروازے کے باہر ہی دو بڑے بڑے مینار چپکا رکھے ہیں, اندر پہنچتے ہی کیپٹن عبدالرضیہ کو شاک لگا جب ملتانی ملو نے کہا کے آج تو ملتان میں لوڈ شیڈنگ ہے, ہائے او ربا نا ٹینکی میں پانی نا فون میں بیٹری, خیر اگلا ٹارگٹ تھا عبدالشدید زخمی کو ٹیکا لگانا, زخمی مزے سے ٹانگیں پھیلائے لیٹا تھا, کیپٹن عبدالرضیہ پرانی ماہرِ ڈنگر, یہ سرنج کو بھرا اور زخمی بھالو پہ دھاوا بول دیا, زخمی بھالو نے بڑا زور لگایا کے ٹیکا بازو میں لگایا جائے, مگر مے نیجر ساب سے لے کر ڈورا تک سارے ہی متفقق تھے کے کسی نرم جگہ کا انتخاب ہو, کیپٹن عبدالرضیہ نے زخمی بھالو کی سب ان سنی کر کے ٹھیک جگہ نشانہ لگا دیا, ہائے اوئی بہت وقت کی اٹکی اب نکلی, ملتانی ملو کا کہنا تھا کے وہ ناشتے کی میز سجا کے سب کا انتظار کر رہا ہے, ندیدے مے نیجر ساب اور ندیدے ہوئے جب فریج تک خالی پڑا ملا, پینے کا پانی تک بھی نصیب نا ہوا اور ڈورا نے ملتانی ملو کی اچھی خاصی لے لی-

مے نیجر ساب کو ٹیم کی بڑی محترم باجی کے ساتھ نا جانے کے صدمے میں کچھ یاد نا رہا اور چپ چاپ آ کے گاڑی میں بیٹھ گئے, دراصل ان کے نا جانے سے زیادہ انکا خرچہ اٹھانے پہ صدمہ تھا جو سارے سفر باجی باجی کے ورد سے جاتا رہا, اب مے نیجر ساب کی پھٹیچر ٹیم مکمل تھی اس لیے بنا ایک بھی پل ضائع کیے وہ شام سے پہلے صحرا کی سرزمین پر اپنا جھنڈا گاڑنا چاہتے تھے, جس پہ کمیپ کی رسیاں مضبوط کی جا سکیں, ملتانی ملو کے بیٹھتے ہی گاڑی کا حلیہ بدل گیا, کیپٹن عبدالرضیہ کو بس اپنے پیٹ کی فکر لاحق تھی, ڈورا کا کہنا تھا کے نور محل جلدی بند ہو جائیگا اس لیے پہلے وہ دیکھا جائے, جبکہ ملتانی ملو کو میٹھو میٹھو کرنے کی پڑی تھی, گاڑی میں بیٹھتے ہی بوٹی نکال نکال کے سونگھتا اور پیڑی سی بوتھی بنا کے کہتا ‘ یار بنا لوں’ اور سب ایک ہی آواز میں کہتے نہیں, جہاں کیمپنگ ہو گی وہیں جس نے جو کرنا ہوا کریگا, اسی لڑائی لڑائی میں بہالپور پہنچے, گاڑی سے نور محل کو دیکھا, پھر سورج کو دیکھا, نور محل کے دروازوں پہ رش دیکھا, پیٹ میں دوڑتے چوہوں کو دیکھا, اور فیصلہ ہوا, پہلے پیٹ پوجا فیر کم دوجا, پائلیٹ ٹانڈے نے یوٹرن لیا چوک میں پہنچ کر ہوٹل کا نام پڑھا ‘کراچی کھٹا کھٹ ‘ بس بھوک کی شدت نے او دیکھا نا تاو, پر کھانا کمال کا تھا, کھانے کی خوشبو نے عبدالشدید زخمی سے لے کر نور محل تک سب بھلا دیا, وعدے کے مطابق بل تو ملتانی ملو نے دینا تھا مگر کھانا کھاتے ہی وہ فرار ہو گیا, اب پھر ندیدے مے نیجر ساب کی جیب ہی خالی کرانی پڑی, اسکے بعد فیصلہ ہوا کے بارنی کیو کا سامان یہیں سے مکمل کیا جائے, ملتانی ملو اور مے نیجر ساب کوئلے لینے جبکہ ڈورا کی پیاری سہیلی کے گھر سے طکن اٹھانے باقی سب پہنچ گئے, اور لیمو پانی کا شرف حاصل کیا-

سب کے جمع ہونے کے بعد اگلا پڑاؤ صحرا کی ریت پہ ہونا تھا۔ گاڑی اور سورج ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے, دھوپ میں اب وہ حدت نا رہی تھی, راستوں کے نظاروں سے لطف لیتے, گانے سنتے, جگتیں لگاتے, تصویریں بناتے, عصر کی نماز, کے لیے گاڑی رکی تو کیپٹن عبدالرضیہ نے دیکھا بزوکا کسی کے گنے کے کھیت میں گھسا گنے چرا کے چوس رہا ہے, ملتانی ملو کسی اونٹ کی فوٹوگرافی کر رہا ہے, جبکہ ڈورا گاڑی کے دروازے میں گھونگٹ ڈال کے بیٹھی ہے, نیند سے اٹھ کے کافی ماحول فرش, لگا ٹھنڈی ہوا, نا شور نا رش, ہر طرف کھیت اور پرندوں کی چہچہاہٹ, اکا دکا گاڑی گزرے تو گزرے, نماز کے وقفے کے بعد گاڑی ایک بار پھر چل پڑی, قلعہ دراوڑ کے قریب ہونے کے اثار نمایاں تھے, ایک خوبصورت لوکیشن کو دیکھ کر گاڑی روک لی گئی ہمارے مے نیجر ساب اور ملتانی ملو اپنے کاروبار میں جٹ گئے, ہر ایک اپنے اشٹائل سے فوٹو بنواتا رہا, سورج کی لالی اب آسمان کے کناروں پہ پھیلتی جا رہی تھی, گاڑی ایک بار پھر چل پڑی-

جاری ہے

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں