سفر ہائے ہائے نامہ۔۔قسط نمبر2

قلعہ دراوڑ پہنچے تو سورج غروب کی آخری حدوں میں داخل ہو چکا تھا۔اور ابھی کیپمس لگانے باقی تھے۔ پھر جگہ کی ٹھیک سلیکشن, قلعے سے نکل کر ہم صحرا کی طرف نکل پڑے۔ ڈورا کی کمنٹری شروع ہو گئی کہ ٹریک پہ چلتے جاؤ۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ کافی دور ایک جگہ کومے نیجر ساب نے منتخب کیا اور خود تصویریں کھینچنےمیں مگن ہوگئے۔ ملتانی ملو نے سکھ کا سانس لیا ,بوٹی نکالی اور میٹھو میٹھو بنانے لگا۔

کیپٹن عبدالرضیہ جگہ کا جائزہ لینے آگے کی طرف نکل گئیں, جبکہ بھلا ہو ڈورا اور مسٹر بزوکا کا کہ انہوں نے کیمپس لگائے۔ ہوا کی شدت اتنی تھی کہ ایک کیمپ اڑ کے دور جا گرا۔ اندھیرا چاروں طرف پھیلتا جا رہا تھا۔ کیمرے اسٹینڈز پہ فکس کر کے اب ملتانی ملو سکون سے میٹھو میٹھو کر رہا تھا۔ فوٹوگرافی میں مگن معصوم مے نیجر ساب کو بھی تین کش لگوا چھوڑے۔ کیپٹن عبدالرضیہ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے۔ اس سب کے بعد یاد آیا کے نا تو گھی لائے ہیں نا انگیٹھی, اب یہ بڑا صحرا اور تلاش اینٹوں کی, مے نیجر ساب اور کیپٹن عبدالرضیہ اینٹوں کی تلاش میں نکل پڑے۔

اندھیرا مکمل طور پر پھیل چکا تھا۔ دور دور تک کسی کی موجودگی کےآثار نظر نا آتے تھے۔ زمین پہ نظر پڑتی تو وہ بھی دھندلا چکی تھی۔ وقفے وقفے سے زمین پہ سرسراہٹ ہوتی، نا جانے کونسے جاندار بھاگم بھاگی میں مصروف تھے۔ تقریبا دو کلو میٹر چلنے کے بعد دور ایک بتی جلتی دکھائی دی۔ مے نیجر ساب اور کیپٹن عبدالرضیہ باتیں کرتے اسی بتی کی سیدھ میں چلتے گئے, اچانک کیپٹن کے دماغ میں جھماکا ہوا اور بولی, مے نیجر ساب ہم کھو چکے, سارا صحرا ہے اور کچھ علم نہیں ہم کس طرف سے آئے تھے۔آگے خاردار جھاڑیاں تھیں, نظر کچھ نا آتا تھا۔ بس پاؤں میں جھبتیں تو احساس ہوتا, قریب ایک کلو میٹر روشن بتی سے فاصلے پہ مے نیجر ساب نے کیپٹن سے کہا تم یہیں رکو میں جا کر پتا کرتا ہوں. اور مے نیجر ساب بتی کی طرف چل دیے-

کیپٹن عبدالرضیہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے جائرہ لگانے کی کوشش میں تھیں کہ آخر وہ کہاں سے چلے تھے اور کس طرف آ نکلے۔ اچانک قریب کی جگہ پہ سرسراہٹ ہوئی۔ اندھیرے کے باعث کچھ سجھائی نا دیتا تھا۔ کیپٹن کو لگا جیسے سامنے کوئی بڑا سا جانور بیٹھا ہے, کافی وقت کی مغز کھپائی کے بعد معلوم ہوا کے یہ تو حرکت نہیں کر رہا۔ فٹے منہ کہہ کر کپٹن بتی کے برعکس دیکھنے لگی۔ اسے اپنی طرف ایک عورت آتی دکھائی دی۔وہ  تھوڑا دوررکی اور وہاں کسی دوسری عورت کے کان میں کچھ کہا اور آگے بڑھنے لگی۔ کیپٹن عبدالرضیہ نے بھی اسکی طرف دیکھا۔ وہاں سے مے نیجر ساب کی کسی سے گفتگو کی آواز سنائی دی, وہ کہہ رہا تھا’ آپ ہمارے مہمان ہیں, عباسی کہتے ہیں مجھے۔ تم میرے بھائی ہو بیٹے جیسے ہو, جو چاہیے ملے گا, جگہ بھی ملے گی, لڑکا بھی ملے گا, کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو بس گاڑی کی بتی تین دفع جلانا بجھانا۔ مے نیجر ساب کی ایک ہی رٹ تھی نہیں، بس شکریہ۔ آپ گھی دے دیں تھوڑا سا۔ اسی تکرار میں کیپٹن نے پیچھے دیکھا کہ عورت کہاں پہنچی اب تک, کیپٹن کی تو جیسے بتی گل ہو گئی۔ کونسی عورت, بس سرسراہٹ تھی اور دور کہیں سے گیدڑوں کی آتی آوازیں, کیپٹن خود پہ ہنسی اور نیچے ہو کر ریت پہ بیٹھ کر ندیدے مے نیجر ساب کا انتظار کرنے لگی-

کافی وقت کے بعد دور سے آہستہ آہستہ چلتا ایک سایہ نمودار ہوا, اندھیرے میں سمجھ نا آتا تھا کے یہ تخیل ہے یا حقیقت میں کوئی آ رہا ہے۔ اب جب قدموں کی چاپ بھی ساتھ ہی آنے لگی تو یہ سمجھ نا آتی تھی کہ آنے والا کون ہے۔ یہیں کا مقامی ہے یا مے نیجر ساب۔ سایہ قریب پہنچا تو کیپٹن نے راستہ چھوڑ دیا کہ شاید کوئی اور ہے, مے نیجر ساب آگے بڑھے اور کہا گھی مل گیا, عباسی سیب بڑے چپکو تھے,شکر ہے ہم دونوں کے درمیان دیوار تھی ورنہ انکا پکا ارادہ تھا مجھے گود لینے کا۔

گھی کا شاپر لہراتے ہوئے مے نیجر ساب پہ اب تک وہ تین کش بھاری ہو چکے تھے۔ بولے, یہ لایا ہوں, کیپٹن عبدالرضیہ نے کہا ‘ مبارک ہو یہ لائے تو ہیں پر ہم مکمل کھو چکے ہیں، اب چلتے بنیے اس سے پہلے کہ کوئی جنگلی جانور چیر پھاڑ دے، گھی کا شاپر لہراتے چلتے رہے, کبھی کس طرف تو کبھی کس طرف, کانٹے دار جھاڑیوں میں اٹکتے, گھی کے شاپر سے گھی رستا رہا اور ناجانے اندھیرے میں کہاں کہاں لگتا گیا, مے نیجر ساب کے ہاتھ تر تھے۔ کیپٹن کا ہاتھ پکڑ کر چلتے رہے۔ کیپٹن نے آگے پہنچ کر کہا مے نیجر ساب کچھ گڑ بڑ ہے, یہ چکنا چکنا کیا ہے , دھت تیرے کی, سارا کچھ گھی گھی ہو چکا, نا رستے کی سمجھ نا روشنی کو کچھ, کچھ وقت بعد ایک بتی جلی بجھی, کیپٹن نے سیٹی بجائی, جواب میں پھر سیٹی بجی, اب اس سیٹی کی سمت جلنے لگے, کچھ وقت بعد پھر سیٹی بجائی, مگر کوئی جواب نا آیا, آواز لگائی کہ بتی جلاو کوئی اشارہ دو, مگر کوئی جواب نہیں-

تھوڑا آگے پاس کی ایک جھاڑی میں سرسراہٹ ہوئی اور ساتھ ہی کسی چیز نے حرکت کی۔ مے نیجر ساب اچھل کر پیچھے ہٹے, کیپٹن نے کہا کون ہے, مے نیجر ساب اب ذرا آگے ہوئے اور جھاڑی کے پاس اشارہ کر کے کہنے لگے’ ہُو از دیر…. دیر از سم تھنگ, دیر از سم تھنگ, اور پھر اچھل کر پیچھے ہٹ گئے۔ جھاڑیوں میں سرسراہٹ اور تیز ہوئی۔ کیپٹن نے پر کا پرندہ ہی بنا دیا, مے نیجر ساب کہا تھا نا ہم کھو گئے , مجھے لگتا ہے سامنے شیر بیٹھا ہے, اب تو ہو گیا کام۔ شیر نہیں تو کتا لازمی ہے, مے نیجر ساب نے اپنی سانس لڑائی اور کہا ارے جانوروں کی آنکھیں چمکتی ہیں, کیپٹن آگے ہوئی مے نیجر ساب جائزہ لگائیں کوئی بلا تو ہے یہاں, مے نیجر ساب نے کیپٹن کو بازو سے پکڑ کے پیچھے کیا اورچلنے لگے, نا جانے کونسی سمت تھی کچھ سمجھ نا آتا تھا, اتنے میں پیچھے سے کسی نے وٹا مارا, مے نیجر ساب کی بتی گُل , ایک جگہ جم کے کھڑے ہو گئے آواز لگائی کون ہے , ہم کھو گئے ہیں ذرا آواز دو کہاں ہو تم لوگ, صحرا میں جیسے آواز ہی گم گئی ہو۔ اتنے میں جھاڑیوں کے پیچھےسے ٹارچ روشن ہوئی اور ایک قہقہ ابھرا۔جھاڑی کے پیچھے سے مسٹر بزوکا اور پائلیٹ ٹانڈا دانت نکالے نمودار ہوئے- مے نیجر ساب کی سانس میں سانس آئی, کیپٹن ابھی تک یہی کہہ رہی تھی کے وہاں کوئی بڑا سا جانور لازمی بیٹھا ہے, جائزہ لینا چاہیے, جبکہ بزوکا اور پائلیٹ مے نیجر ساب کی خوف کے باوجود اتنی فر فر انگریجی پہ قہقے لگاتے رہے-

گاڑی کے پاس پہنچے تو ایک دوسرے کا حلیہ دیکھ کر کیپٹن اور مے نیجر ساب کا بھی ہنسا نکل آیا, تیل سے لت پت۔ سب نے مشکوک نظروں سے مے نیجر ساب کی شرٹ کو دیکھا اور پھر ہاتھ میں لہراتے گھی کے شاپر کو۔ عباسی سیب کا قصہ سننے کے بعد ساری ٹیم کو یقین ہو گیا کہ مے نیجر ساب کے کنوارے پن کو صحرائی خاک نے لوٹ لیا۔ کیپٹن عبدالرضیہ نے جب اپنا حلیہ دیکھا تو مے نیجر ساب پہ برس پڑیں, معصوم مے نیجر ساب نے اپنی شرٹ نکال کر دی اور کہا یہی پہن لو, اب پانی کی قلت اوپر سے صحرا کا دیسی گھیو, بالوں تک میں رس چکا تھا, خیر کپڑا بگھو کر کیپٹن نے خود کو نہلایا اور مے نیجر ساب کی شرٹ پہن لی, اب جب روشنی میں تشریف فرما ہوئے تو ملتانی ملو نے کیپٹن سے کہا شرٹ اتار, کیپٹن عبدالرضیہ کی نسوانیت جاگ گئی اور ملتانی ملو کی عزت افزائی کر دی, ملتانی ملو نے نکی سی شکل بنا کے کہا یہ میری شرٹ ہے, کل کیا پہنو گا, کیپٹن کو شرمندگی اٹھانی پڑی, جا کے گاڑی میں مے نیجر ساب کو سلاواتیں سنائیں اور شرٹ بدل کر آئی۔

اندھیرے میں ڈم روشنیوں نے اور یخ ہوا نے دن کی ساری تکان اتار دی تھی, کوئی ٹہل رہا تھا کوئی بار بی کیو کا سامان نکال رہا تھا, عبدالشدید زخمی صحرا میں گاڑی سے ایک پھٹا نکال کر آسمان کی طرف منہ کیے لیٹے تارے گن رہے تھے, ملتانی ملو کو پھر سے بوٹی بنانے کی پڑ گئی-

باربی کیو کا سامان تیار تھا, ہمارے مے نیجر ساب کلاس کے مے نیجر کہلاتے ہیں۔ نا کوئی برتن چیک لسٹ میں شامل کرایا, نا بار بی کیو کرنے کے لیے انگیٹھی, بندہ پوچھے صحرا میں کیا اینٹوں کے بھٹے لگتے ہیں, خیر سیخوں کی مدد سے زمین کھودی گئی۔جسکو کوئلوں سے بھرا گیا, بھلا ہو ڈورا کا کہ پٹرول بوتل میں بھروا لائی ورنہ کوئلوں پہ رات مے نیجر ساب کی چتا ہی جلتی, جس پہ بار بی کیو ہوتا, پائلیٹ شاہکار چوکڑی مار کے بیٹھ گیا۔ ملتانی ملو اپنے چکروں میں ہاتھ پہ بوٹی تیار کرتا رہا, ڈورا سیخوں پہ مصالحے سے لدی بوٹیاں لگا لگا کے پائلیٹ ٹانڈا کو دیتی رہی, بزوکا سرکار آسمان کو تاڑتے سوٹے لگاتے رہے, جبکہ عبدالشدید زخمی سیخوں کی خوشبو سے مدہوش ہوتا رہا۔ باربی کیو تیار تھا۔ سب نے چکھنے کے لیے ایک ایک بوٹی نوش فرمائی تو چودہ طبق روشن ہو گئے, جلدی سے ڈرنک لی, کانوں سے دھواں نکلا, آنکھوں میں پانی, یا خدایا ڈورا تیری دوست نے کونسے کرموں کا حساب چکتا کیا ہے رے, ڈورا نے سب کی بوتھیاں دیکھیں اور بزوکا جو کے ستارے گننے میں مصروف تھا اس سے باقی کا گوشت دھلوا دیا, اب سب سیخوں میں مصروف تھے کے میں اور بزوکا مشترکہ بوٹی والا سوٹا بنانے گاڑی میں آ بیٹھے-

بزوکے نے ڈبی سے سوٹے نکالے اور خالی کیے, کیپٹن نے میٹھو میٹھو کو دھونی دے کر مکس کیا, اور پیپر میں بھرا,
بزوکا” ہائے کیسے کر لیتی ہیں آپ یہ, کیپٹن نے مسکرا کر سوٹا بزوکے کے ہاتھ پہ رکھا اور کہا ایسے، بزوکے نے سوٹا جلایا, اور ایک لمبا کش بھرا, بار بی کیو اب اختتامی مراحل میں تھا, آہستہ آہستہ سب گاڑی کی طرف آنے لگے, عبدالشدید زخمی نے کیپٹن سے ایک الگ سوٹا بنوا کے لگا لیا۔ پائلیٹ معصوم نے بھی دیکھا دیکھی کش پہ کش لگائے اور ہل گیا, ڈورا نے سیٹ سنبھالی اور سونگھ کے ہی سو گئی, مے نیجر ساب کو ملتانی ملو نے کچھ زیادہ ہی شرخیر سوٹا لگوا دیا۔ انکی تو رات ہی برباد ہو گئی, کبھی وہ چکرا کے کہیں گرتے کبھی کہیں, کبھی انھیں آسمان گھومتا دکھائی دیتا تو کبھی گاڑی چلتی۔ بزوکا اور کیپٹن نے سب کو سائیڈ پہ کیا اور پائلیٹ کے ساتھ صحرا میں تاروں کے راستے پتا کرنے دور نکل گئے-

جاری ہے

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں