تھر یاترا

جمعہ کی شب ڈاکٹر فیاض عالم نے فون پر اطلاع دی کہ تیاری کرلیں، کل شام تھرپارکر روانگی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے بزرگوں والا رشتہ ہے ان کا حکم ٹالنے کی جرات کم از کم میں نہیں کر سکتا اور سچ تو یہ ہے کہ میرا دل بھی انہیں  انکار کرنے کو راضی نہیں ہوتا، لیکن روزی روٹی کا چکر انسان سے بہت کچھ خلاف مرضی بھی کروادیتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے عجیب فطرت پائی ہے۔ انسان ہیں لیکن اپنی فعالیت سے جن لگتے ہیں۔ کہیں سیلاب آئے، خشک سالی ہو، زلزلہ آئے، الغرض کوئی بھی قدرتی یا انسانی آفت ہو، ہم گھر بیٹھ کر کڑھتے رہتے ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ ڈاکٹر صاحب کا اپنا مستقل ذریعہ معاش کیا ہے؟ میں نے ان کو ہمیشہ دوسروں کے ذریعہ معاش کا وسیلہ بنتے دیکھا ہے۔ رسم دنیا کے مطابق جب لوگ آپس میں ملتے ہیں تو پہلا سوال یہ کرتے ہیں ” گھر میں سب کیسے ہیں“ ڈاکٹر صاحب کے ملنے والے ان سے پوچھتے ہیں ” تھر میں سب کیسے ہیں“۔ در اصل ڈاکٹر صاحب تھرپارکر میں زیادہ اور کراچی میں کم ہی دکھتے ہیں۔
ایک سال سے ہم بھی ڈاکٹر صاحب کی ٹیم میں شامل ہیں۔ میں ان کے حکم کے مطابق دفتر سے چھٹی لیکر ہفتہ کی شب10بجے ان کے گھر پہنچا، جہاں سے ہم سب نے ایک ساتھ منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔ تھوڑی دیر میں سہیل جمالی  بھی پہنچ گئے۔ سہیل جمالی پرانے صحافی اور آج کل پی ٹی وی میں رپورٹر ہیں۔ کمال کا حافظہ پایا ہے۔ کراچی کی تاریخ لیکر بیٹھ جائیں تو بندہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ جماعت اول سے لیکر ماسٹرز تک کے اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے نام، اہل خانہ کا تعارف، خاندانی پس منظر اور کاروبار ان کو آج تک یاد ہے۔ طلبہ سیاست اور کراچی میں لسانی عصبیت کی ابتداء اور عروج کے بھی عینی شاہد ہیں۔ زمانہ طالب علمی اور لسانی فسادات و قتل غارت گری کے قصے کہانیاں بڑے مزے لیکر سناتے ہیں۔ سہیل جمالی کے بارے میں آگے بھی آپ کو بتاتا رہوں گا۔ یہاں منصور صاحب کمرے میں داخل ہوگئے۔ گول مٹول اور چھوٹے قد کے منصور در اصل بہت بڑے قد کے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی اور گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں۔ ان کے بعد ممتاز عالم اور پرویز بھی پہنچ گئے۔


سامان گاڑی میں لاد کر ہم روانہ ہوئے اور گلشن اقبال سے عامر خان کو بٹھایا۔ عامر بھائی کم گو اور خاموش طبع انسان ہیں۔ جب بات کرتے ہیں تو دوسرے بندے کو سرک کر کان ان کے منہ قریب لانا پڑتا ہے۔ اجنبی شخص کو البتہ دو تین مرتبہ پوچھنا پڑتا ہے۔ کراچی سے نکلتے وقت تقریبا رات کے 12بج رہے تھے اور ہم نے سفر رات میں ہی کرنا تھا۔ نیشنل ہائی وے پر ٹول پلازہ سے گزر کر کافی سفر کیا تھا کہ گاڑی میں اچانک خاموشی چھاگئی۔ کوئی سیٹ سے ٹیک لگا کر سوگیا اور کوئی موبائل میں مگن ہوگیا۔

گھارو کے قریب پہنچ کر میں نے آگے بیٹھے سہیل جمالی کو مخاطب کیا مگر  وہ سو رہے تھے۔پھر پیچھے بیٹھے ممتاز عالم کی طرف توجہ مبذول کی ، وہ جاگ رہے تھے۔ ممتاز عالم نے کمال کی حس مزاح پائی ہے۔ چٹکلے چھوڑ کر خود خاموش اور سنجیدہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور دوسرے ہنس ہنس کر نڈھال ہونے لگتے ہیں۔


میں نے پوچھا گھارو میں چائے کے ساتھ وائے بھی تناول فرامائیں گے یا سفر جاری رکھیں گے۔ کہنے لگے سہیل جمالی سے پوچھو۔ میں نے کہا سہیل جمالی سو رہے ہیں۔ اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔ ایسی باتیں جمالی صاحب نیند میں بھی سن لیتے ہیں۔ میں نے مڑ پوچھا جمالی صاحب کیفے عمران کا ناشتہ کریں گے یا نہیں۔ واقعی جمالی صاحب یک دم سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔ آنکھ مول کر کہنے لگے۔ ہاں یار نیشنل ہائی وے پر سفر کریں اور کیفے عمران کا ناشتہ نہ کریں تو کیا فائدہ۔


جمالی صاحب کی رائے سے سب نے اتفاق کرلیا اور ہم کیفے عمران پر ناشتہ کرنے رک گئے۔ کیفے عمران کافی مشہور ہوٹل ہے۔ نیشنل ہائی وے پر سفر کرنے والا ہر شخص کیفے عمران سے واقف ہوگا۔ پہلی بار جانے والے بھی یادگار کے طور پر یہاں لازمی رکتے ہیں۔ کیفے عمران کے کھانے ذائقہ دار اور صفائی شاندارہے لیکن اس کی اصل خوبی تیز رفتار سروس ہے۔ ہم جس وقت پہنچے اندر بیٹھنےتک کی جگہ نہیں تھی۔ کافی دیر باہر انتظار کیا۔ نشستیں خالی ہوئیں تو ہم جاکر بیٹھ گئے۔ میں سوچ رہا تھا اتنے رش کے دوران آرڈر پہنچنے میں کافی دیر لگے گی، میں تب تک سگریٹ خرید لاتا ہوں۔ ہوٹل کے باہر ایک کونے پر ٹک شاپ سے سگریٹ لیکر واپس پہنچا تو ہمارا آرڈر پہنچ چکا تھا۔ میں حیرت زدہ رہ گیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد ہوٹل کے باہر کھڑے ہوکر سگریٹ سلگایا۔ سامنے سے لوڈر سوزوکی اونچی آواز میں سندھی گانے چلاتے ہوئے گزر گئی۔ میرے ذہن میں اچانک گاﺅں دیہات کا منظر گھوم گیا۔ پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں میں جہاں جہاں میں گیا ہوں، ایک چیز میں نے مشترک دیکھی۔ یہاں لوگ موٹر سائیکل پر بیٹھتے وقت چادر سر پر باندھ لیتے ہیں اور ایک سرا منہ میں پکڑ لیتے ہیں۔ ٹریکٹر ٹرالی، چنگچی رکشہ اور سائیکل پر بھی سندھی اور پنجابی گانے اونچی آواز میں چلاتے ہیں جو دور دور تک سنائی دیتے ہیں۔ سوزوکی میں چلنے والے گانے کے بول میں مجھے صرف سسی اور پنوں کے الفاظ سمجھ آئے۔


سسی پنوں کی ناقابل فراموش داستان سندھی ادب میں جابجا ملتی ہے۔ گھارو کسی زمانے میں بھمبور کہلاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سسی کا باپ ریاست کا بادشاہ تھا۔ جب سسی کی پیدائش ہوئی تو باپ نے اس کو شاہی خاندان کی توہین سمجھ کر دریا میں ڈالنے کا حکم دےدیا۔ جیسے زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ نومولود بچیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے۔ بادشاہ کے حکم پر سسی کو لکڑی کے صندوق میں بند کرکے دریائے سندھ میں پھینک دیا گیا۔ آگے دریا کنارے ایک دھوبی کپڑے دھونے میں مصروف تھا۔ اس نے صندوق نکالا اور کھول کر دیکھا تو اندر سے بچی برآمد ہوئی۔ دھوبی اولاد سے محروم تھا اس نے بچی گود لیکراس کا نام سسی نام رکھ دیا۔ سسی جوان کیا ہوئی چہار سو اس کے حسن کے چرچے ہونے لگے۔ بات اتنی پھیلی کہ کیچ مکران کے شہزادے پنوں تک پہنچ گئی۔ پنوں سسی کو دیکھنے کی خواہش لیکر بھمبور پہنچا اور کافی سوچ بچار کے بعد اس کو ایک خیال آیا۔ یہ کپڑے دھلوانے کیلئے سسی کے گھر آیا اور وہیں سسی سےاسکی آنکھیں چار ہوگئیں۔ یہاں سے دونوں کی پریم کتھا کی ابتداء ہوئی۔

لوک روایات کے مطابق پنوں نے سسی کے باپ کو منانے کی کوشش کی لیکن سب بے سود رہا۔ آخر میں سسی کے دھوبی باپ نے ایک عجیب و غریب شرط رکھ دی۔ کپڑوں کا ڈھیر لگا کر کہا، اگر تم یہ سارے کپڑے دھونے میں کامیاب ہوگئے تو سسی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے دوں گا۔ بصورت دیگر اپنا راستہ ناپو۔ شہزادہ کپڑے کیا خاک دھوتا، ناکام و نامراد ہوکر چلنے کا سوچ رہا تھا کہ ایک نیا خیال سوجھا۔ اس نے سارے کپڑوں کی جیبوں میں سونے کے سکے رکھ دئے۔ سسی کا باپ غریب دھوبی تھا۔ اتنا سارا سونا دیکھ کر فورا راضی ہوگیا۔
ادھر سسی کا باپ راضی ہوا تو پنوں کے باپ نے رولا ڈال دیا کہ ایک دھوبی کی بیٹی شاہی محل میں بہو بن کر آئے یہ ناممکن ہے۔ لیکن پنوں دھن کا پکا تھا، باپ کی ایک نہ سنی اور شادی کا دن طے کر دیا۔ باپ نے پنوں کے بھائیوں کے ساتھ ملکر سازش تیار کی اور عین شادی کی رات جشن کے دوران پنوں کو شراب و دیگر نشہ آور چیزیں پلا کر بے ہوش کر دیا اور اونٹ پر لاد کر مکران لے گئے۔ صبح سسی کی آنکھ کھلی تو پنوں کو غائب پاکر دیوانہ وار ننگے پیر مکران کی جانب پیدل دوڑ پڑی۔ بھوک اور پیاس کی ماری سسی راستے میں ایک ہی صدا لگاتی رہی، پنوں پنوں، لیکن پنوں بہت دور جا چکا تھا۔ چلتے چلتے پیاس سے جان حلق میں آگئی تو کہیں سے ایک چرواہا نمودار ہوگیا۔ سسی نے اس سے پانی کی درخواست کی۔ چرواہے نے پانی تو پلایا لیکن سسی کی خوبصورتی دیکھ کر نیت خراب کر بیٹھا اور حملہ آور ہوگیا۔ یہ سسی کیلئے ایک نیا جان لیوا امتحان تھا۔ سسی چرواہے سے اپنی عزت و آبرو بچانے کیلئے صحرا میں بھاگی جارہی تھی۔ تھک ہار کر سسی نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دعا مانگی یا اللہ مجھے اپنی امان میں لے لو۔ اسی دوران زمین پھٹ گئی اور سسی اس کے اندر دھنس گئی۔ ادھر پنوں صبح اٹھ کر سسی کی تلاش میں واپس بھمبور کی جانب دوڑ پڑا۔ سسی سسی کی صدا لگاتے ہوئے عین اسی مقام پر چرواہے سے آکر ملا۔ چرواہے نے اس کو پوری کہانی سنا دی۔ پنوں نے بھی عین وہی دعا مانگی جو قبول بھی ہوگئی اور اسی جگہ سسی کے پہلو میں دفن ہوگیا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی سمیت دیگر صوفی شاعروں کے کلام میں بھی سسی پنوں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
میں سسی پنوں کے سحر سے باہر نکلا تو گاڑی میں سب اپنی اپنی نشستوں پر سورہے تھے۔میں نے بھی آنکھیں بند کرلیں۔ جب آنکھ کھلی تو صبح کی سپیدی نمودار ہورہی تھی۔ ہم نے خود کو تھرپارکر میں پایا۔ مٹھی میں ہی مقیم رحمان بھائی کو فون پر ناشتہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ رحمان بھائی مجاہد آدمی ہیں۔ سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق ہے۔ کئی برس قبل حصول تعلیم کیلئے کراچی آئے۔ نرسنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی میں ہی پرائیویٹ نوکری شروع کردی۔ اس دوران تھر پار کر میں قحط سالی نے شدت اختیار کرلی۔ نومولود بچے غذائی قلت اور علاج معالجہ کی سہولت نہ ہونے کے باعث مرنے لگے۔ اسپتالوں میں عملہ تعینات نہیں تھا۔ جو تعینات تھے وہ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے رہے۔ انہی دنوں یہ نوجوان ڈاکٹر فیاض عالم سے ملا۔ یہ کراچی میں نرسری کی تربیت حاصل کر چکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کو اپنے ساتھ سیدھا مٹھی کے سول اسپتال لے آئے اور نرسری میں بٹھا دیا اور تمام ضروری آلات و مشینری بھی مہیا کردی۔ اس نوجوان نے اکیلے نرسری کا انتظام سنبھال لیا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے سوچا کہ آخر میں کب تک یہاں رہ سکتا ہوں۔ جب میں یہاں سے چلا جاﺅں گا توان نو مولود بچوں کا کیا بنے گا۔ پھر اس نے 6مقامی نوجوانوں کو اپنے ساتھ بھرتی کرلیا اور ان کی تربیت شروع کردی اور ساتھ ہی ان کا میڈیکل کورسز میں داخلہ بھی کروا دیا۔ آج وہ 6نوجوان سرٹیفیکٹ حاصل کر چکے ہیں اور مختلف این جی اوز کے تحت سول اسپتال میں ہی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ رحمان بھائی اب نہ صرف ایک ڈاکٹر بلکہ تھر پارکر میں خدمت خلق کا استعارہ بن چکے ہیں۔ فلاحی اداروں اور شخصیات کے میزبانی کا بیڑا اس نے اٹھایا ہے۔ اس کو تھر پارکر کے ہر گوٹھ اور گاﺅں کے مسائل معلوم ہیں۔ صبح 8بجے سے دوپہر تک اسپتال میں ڈیوٹی کے بعد مختلف گوٹھوں کا رخ کرتے ہیں۔ پانی کے پروجیکٹس لگانے کیلئے سروے اور پرانے پروجیکٹس کا معائنہ اور مرمت کرتے رہتے ہیں۔ دور دراز کے گوٹھوں میں رہنے والے لٹے پٹے تھر واسی رحمان بھائی کو دیکھ کر ان لپٹ جاتے ہیں اور یہ اردو ملی سندھی میں ان کے ساتھ گھنٹوں گپ شپ کرتا رہتا ہے۔ یہ جب ہمارے سامنے تھر واسیوں سے گھل مل جاتا ہے تو یوں گمان ہوتا ہے جیسے لنگوٹیے ملے ہیں۔ ہماری میزبانی کا بیڑہ بھی انہوں نے ہی اٹھائے رکھا ۔ ہمارے پہنچنے تک ناشتہ تیار تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد آرام کئے بغیر عازم سفر ہوئے۔
یہاں تک موبائل سروس بھی دستیاب ہے لیکن تھوڑا آگے چل کر ہمارا دنیا سے رابطہ کٹ گیا۔ مزید آگے چل کر ہماری گاڑی نے
ریت میں چلنے سے معذرت کرلی۔ اس کو سائیڈ پر لگا کر تھرپارکر والوں کی پسندیدہ گاڑی ” لانگ“ پکڑ لی۔ لانگ دراصل بہت ”شاٹ“ ہے۔ شہروں میں عموما چھوٹی فیملی والے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے خریدتے ہیں۔ ماچس کی ڈبی کی مانند پجیرو جیسی گاڑی، پیچھے لٹکتے ٹائر پر انگریزی میں پھوٹھوہار لکھا ہوتا ہے۔ اس میں بمشکل4 آدمی بیٹھ سکتے ہیں لیکن تھر واسی غذائی قلت کے باعث اتنے دبلے پتلے ہیں کہ عام طور پر دس افراد اس کے اندر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں اور دو چار آگے پیچھے اور دائیں بائیں بھی لٹک جاتے ہیں۔ ہم آٹھ افراد بمشکل تمام اس میں بیٹھ کر ریت کی پہاڑیاں سر کرتے ہوئے مٹھی سے ستر کلومیٹر دور گوٹھ جھگری میں جا نکلے۔ یہاں ہم نے پانی کے منصوبے کا افتتاح کرنا تھا۔ بورنگ اور ٹینک و دیگر کام پہلے سے ہوچکا تھا۔ یہ علاقہ آج تک بجلی سے محروم ہے۔ یہاں ہم نے سولر سسٹم نصب کیا اور موٹر بورنگ میں اتار دی۔ بٹن دبانے پر فوارے کی طرح پانی نکلتا دیکھ کر تھر واسی حیرت زدہ رہ گئے۔ بچے اور بزرگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس نئی چیز کا نظارہ کرنے لگے۔ ایک بزرگ زیر لب بڑ بڑاتے ہوئے قریب آیا اور پانی کو ہاتھ لگاکر تسلی کرلی کہ یہ واقعی پانی ہی ہے۔ شاید ان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ تھر واسیوں کیلئے یقینا یہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا ۔ وہ پیدائش سے لیکر موت تک پانی کے حصول کا ایک ہی طریقہ دیکھتے رہتے ہیں۔ گہرے کنویں میں ڈول پھینک کر گدھے اور بیل کے ذریعے اس کو کھینچنا۔ جس کے پاس گدھے اور بیل نہیں وہ خود تین سو فٹ کی رسی کھینچتا رہے گا۔ یہ کتنی مشکل مشق ہے اس کا ہم شہر میں بیٹھ کر تصور ہی نہیں کر سکتے۔
انتہائی غربت کے باوجود تھر واسی بڑے مہمان نواز واقع ہوئے ہیں۔ دو گھنٹے ہم نے اس گوٹھ میں گزارے۔ اس دوران انہوں نے ہمیں چار مرتبہ بسکٹ کے ساتھ چائے پلائی۔ چائے پیتے ہوئے میں نے ایک نوجوان سے پوچھا، یہاں ہندو بھی رہتے ہیں یا صرف مسلمان ہی ہیں۔ کہنے لگا پہلے آباد تھے لیکن 1971 میں رت چلے گئے۔ لڑکا پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن اپنے علاقے کی تاریخ سے کافی واقف تھا۔ یہ شاید گاﺅں کی روایت ہے کہ بوڑھے اکثر نوجوانوں کو اپنے باپ دادا کے قصے کہانیاں اور اپنے بچپن کی یادداشتیں سناتے رہتے ہیں۔ اس نوجوان کی عمر لگ بھگ بیس سال تھی۔ کہنے لگا یہاں رہنے والے ہندو چلتے پھرتے اور چالاک تھے۔ گوٹھ کے اجتماعی معاملات میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔
ایک مرتبہ گوٹھ کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں کی زمین ہماری ملکیت تو ہے لیکن سرکاری کاغذوں میں ہمارے نام پردرج نہیں۔ اس سے قبل کہ ہم ایک دوسرے کی زمینوں پر دعوے شروع کردیں، اس کا قانونی اندراج کروانا چاہیے اور اس مقصد کیلئے ہندوﺅں کو ہی چنا گیا۔ گاﺅں والوں نے پیسے جمع کرکے ہندو ٹھاکر کو شہر بھیج دیا کہ جاکر تمام زمینیں گوٹھ کے لوگوں کے نام منتقل کر آﺅ۔ شہر پہنچ کر ٹھاکر صاحب کی نیت خراب ہوگئی۔ اس نے ساری زمینیں اپنے نام کر دیں۔ واپس گوٹھ پہنچ کر کچھ عرصہ کاغذات دوسروں سے چھپا کر رکھے لیکن زیادہ دیر تک بات نہ چھپ سکی۔ ٹھاکر کا فراڈ جب بے نقاب ہوا تو گوٹھ والوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ٹھاکرکی طاقت کے آگے تمام حربے بے سود، لہٰذا کڑوا گھونٹ پی کر بیٹھ گئے۔ پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ 71 میں ٹھاکر صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہندوستان سدھار گئے۔ گاﺅں والوں کو اپنی زمینوں سمیت ٹھاکر کی زمین بھی مل گئی۔
یہاں افتتاح کے بعد ہماری اگلی منزل گوٹھ اتائی سومرو تھا۔ سخت گرمی اور حبس کے باجود سب کے حوصلے بلند تھے۔ تھرواسیوں کی ” لانگ“ میں بیٹھ کر گوٹھ اتائی سومرو کا سفر شروع ہوگیا۔ تقریبا ساٹھ کلومیٹر سفر کے بعد ہم منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ گاڑی سے اترتے ہی گوٹھ والے جمع ہوگئے۔ ہمیں پانی پلانے کے بعد فورا کھانے کی دعوت دیدی۔ ہم نے چونکہ یہ طے کر رکھا ہے کہ جہاں فلاحی منصوبہ لگائیں گے وہاں مقامی افراد پر مہمان نوازی کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ محض پانی کے علاوہ ہر قسم کھانا پینا ہم نے اپنے اوپر ممنوع قرار دیا ہے۔ لہٰذا ہم نے معذرت کرتے ہوئے اپنا کام شروع کرنے پر زور دیا۔ گوٹھ کے باشندوں کے اصرار کے باجود ہم کھانا کھانے پر آمادہ نہ ہوئے تو ان کے چہروں پر ناراضگی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ ان کی ناراضگی ہم مول نہیں سکتے تھے۔ اس لئے ان کی مشروط دعوت منظور کرلی۔ شرط یہ رکھی کہ جو کچھ بھی تیار ہے لاکر سامنے رکھا جائے۔ مزید تکلف کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے ہمیں ایک جھونپڑی میں بٹھا دیا اور فورا ہی کھانا لیکر حاضر ہوگئے۔ ہمیں یہ دیکھ کر کافی دکھ ہوا کہ انہوں نے پہلے سے ہی کافی پر تکلف کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ دیسی مرغی، چاول اور لسی کے ساتھ انصاف کرنے کے بعد ہم سولر پلانٹ لگانے میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران گوٹھ کے واحد گریجویٹ نوجوان ممتاز سومرو نے ہمیں بتایا کہ اس گوٹھ میں ستر کے قریب گھر ہیں اور اکثریت سومرو برادری ہے۔ یہاں آج تک بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔ پینے کا پانی لانے کیلئے ایک کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران سورج ڈھلنے کی وجہ سے گرمی کی شدت کافی کم ہوگئی تھی۔ ادھر ادھر جھاڑیوں سے مور نکل کر ریت پر چہل قدمی کرنے لگے۔ سہیل جمالی اپنی پیشہ ورانہ عادت سے مجبور موروں کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہوگیا اور کافی دور تک ان کا پیچھا کیا۔

بات چیت کے دوران موروں کے مرنے پر بحث چل نکلی تو ہمارے استفسار پر ممتاز سومرو نے بتایا کہ زیادہ تر مور برڈ فلو جیسے وائرس سے مر جاتے ہیں۔ یہ وائرس اس وقت حملہ آور ہوتا ہے جب مور گھریلو مرغیوں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ اس بارے میں مزید معلومات طب کے ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ اس دوران سولر پلانٹ لگ چکا تھا، ہم نے موٹر بورنگ میں اتاری۔ 120فٹ کی بورنگ کی گئی تھی جس میں کافی میٹھا پانی آرہا تھا۔ اسی پانی سے منہ ہاتھ دھونے اور پیاس بجھانے کے بعد ہم نے گوٹھ والوں سے اجازت لے لی۔ شام ہوگئی تھی۔ ہم نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔ تھکے ہارے آکر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ تھکاوٹ اتنی تھی کہ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ واپس مٹھی پہنچ کر ہم نے تھر واسیوں کی لانگ کو خیر آباد کہہ کر اپنی گاڑی پکڑ لی۔ واپسی کا سفر شروع ہوگیا تھا۔ رات 9 بجے ہم بدین پہنچے۔ جہاں کھیت سے تازہ خربوزے تحفے میں ملے۔ بدین شہر پہنچ کر پیٹ پوجا کرنے ہوٹل پر رک گئے۔ ہوٹل کا نام سوات ہوٹل دیکھ کر ہلکا سا اپنائیت کا احساس ہوا۔

کاﺅنٹرپر بیٹھے کیشیئر سے پوچھے بنا رہ نہ سکا۔ اس نے بتایا کہ ان کا آبائی علاقہ سوات کی تحصیل مٹہ ہے۔ روزگار کی تلاش میں سندھ کا رخ کیا اور شبانہ روز محنت کے بعد کچھ پیسے ہاتھ آنے پر ہوٹل بنایا اور آج بڑی خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔ تعارف کا فائدہ یہ ہوا کہ ہماری خصوصی مہمان نوازی کی گئی۔ چکن کڑاہی پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد کراچی کی جانب عازم سفر ہوئے۔ تقریبا رات 2 بجے ہم عائشہ منزل پہنچ چکے تھے۔ یہاں سے ہم نے اپنے اپنے گھروں کا راستہ لیا یوں ہمارا دورہ تھرپارکر اپنے اختتام تک پہنچ تو گیا لیکن تھرپارکر سے ہمارا رشتہ ختم نہیں ہوا۔۔۔ یار زندہ صحبت باقی۔

شیئرکریں
mm
نورالہدیٰ شاہین صحافت کے طالب علم اور ٹیم "ٹی ٹی آئی" کا حصہ ہیں۔ حالات حاضرہ اور سیاسی و سماجی موضوعات پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں