وادی سون سکیسر قدرت کا حسین شاہکار

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے290 کلومیٹر اور سرگودہا سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر سلسلہ کوہ نمک کے پہاڑوں میں گھرا قدیم تہذیب و تمدن کاحامل، مذہبی روایات کا امین ،قدرتی طور پر سرسبز اور خوبصورت علاقہ کی قدیم اور خوبصورت وادی سون سکیسر، ضلع خوشاب پنجاب میں واقع ایک حسین و جمیل وادی ہے۔ جو قدرتی نظاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے دل فریب نظاروں، جھلیوں، چشموں اور آبشاروں سمیت کئی قدیم تاریخی آثار اس وادی میں موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وادی کے کافی حصے ابھی تک انسانی دست برد سے بچے ہوئے ہیں اور فطری حسن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سکیسر پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک صحت افزاء مقام کا نام ہے یہ ایک وسیع پہاڑی سلسلے کا عنوان ہے جس میں کئی وادیاں اور چھوٹے بڑے گاؤں ہیں، جن میں کچھی والا، تلاجھہ فورٹ، کنہٹی گارڈن، ڈب شریف، اچھالی جھیل، کھبیکی جھیل، سکیسرٹاپ، امب شریف کے آثارقدیمہ، چشمہ شیخ مہدی، مائی دی ڈھیری وغیرہ اس کے معروف قابل دید مقامات ہیں۔ نوشہرہ اس وادی کا صدر مقام ہے۔

عظیم مسلمان فاتح ظہیرالدین بابرکا پوٹھوہار کے علاقے سے گزر ہوا تھا۔ راستے میں وادی کے حسن نے بادشاہ سلامت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑاؤ ڈالا۔ قدرتی حسن تو اس وادی کا تھا ہی اس بادشاہ نے بھی اس وادی کے حسن میں اضافہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ باغات اگانے کا حکم جاری کیا اور اس وادی کے بارے میں تاریخی کلمات ادا کئے۔ جو اس علاقے کے لوگوں کے لئے آج بھی باعث فخر ہیں ظہیرالدین بابر نے کہا کہ:

” ایں وادی بچہ کشمیر است “
یعنی یہ وادی چھوٹا کشمیر ہے۔ اس بادشاہ کی چند نشانیاں آج بھی اس وادی میں موجود ہیں۔

“سون’ کا لفظ سنسکرت میں سوہن بمعنی خوبصورت کے ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ سوہن کا تلفظ سون کی شکل اختیار کر گيا۔ یوں یہ “سوہن دھرتی” “وادی سون” کے نام سے پکاری جانے لگی۔ “سکیسر ” مرکب ہے “سکی” اور سر” سے سنسکرت ہی “سر ” تالاب سے عبارت ہے اور سکی سے مراد منی گوتم ہے۔ ایک روایت کے مطابق “ساکیا” ایک قوم کا نام ہے اور “ساکیانی” کا اطلاق مہاتمابدھ پر بھی ہوتا تھا یوں “سکیسر” کا لفظ ساکی سر سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں ساکیہ کا تالاب۔ وادی سون سکیسر کا مجموعی رقبہ دس ہزار ایکڑ جبکہ قابل کاشت تین ہزار ایکڑ بنجر یا ناقابل کاشت رقبہ سات ہزار ایکڑ ہے، وادی سون کی مٹی زیادہ تر بھر بھری ہے اور یہاں کے پہاڑ ریتلی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہے یہاں کی زراعت کا دارومدار برسات پر ہے۔ ڈھلوانی کھیت عام ہیں پہاڑ اور پتھروں کی مختلف قسمیں جن میں چونے کا پتھر، پیلے رنگ کے پتھر،سفید پتھر،سنگ مرمر وغیرہ شامل ہیں۔ وادی سون کے پہاڑوں سے نمک، گندھک، کوئلہ، بجری کا پتھر موجود ہے۔ ۔اس کے مشرق میں جہلم چکوال کے کچھ علاقے شمال میں تلہ گنگ مغرب میں میانوالی جبکہ جنوب میں ضلع خوشاب کی تحصیل نور پور تھل کا علاقہ ہے۔خوشاب سے نوشہرہ کی طرف جاتی سڑک پر جیسے جیسے وادی سون سکیسر کے قریب پہنچتے ہیں تو اس وادی کی کشش انسان کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہے۔ وادی سون کی پہلی خوبصورت ترین لوکیشن کٹھوائی کے بعد کھوڑہ کی آبادی جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت ، تازہ ٹھنڈی ہوا ، وادی میں داخل ہونے والے کا استقبال کرتے ہیں۔کھوڑہ کے بعد سڑک کے دونوں جانب گھنے درخت اور سرسبز پہاڑ بہت ہی دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔اس کے بعد بُھکی نیا نام( مصطفٰی آبا د) کا علاقہ آتا ہے، جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت اور سرسبز و بلند پہاڑ وادی کے حُسن میں اہم اضافہ کرتے ہیں ۔ پہاڑ کے بلند مقام پر بابا گولڑہ کی مسجد کے سفید مینار کئی کلومیڑ دور سے ہی نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور بل کھاتی سڑک سے بلندی کی جانب سفر کے دوران نیچے میدانی علاقے کی مختلف آبادیاں ہڈالی، کنڈ، خالق آباد، بھرکن، پنڈی ، وہیر، شاہ محمد صدیق کا مزار، جوہرآباد، خوشاب ، سندرال اور دریائے جہلم تک کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ بلندی کی جانب کا تقریباََ آدھا سفر طے کرنے کے بعد مختصر رقبے پر ایک خوب صورت باغ نڑواڑی ہے۔ مسافر قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندور ہوتے ہیں۔ نڑواڑی سے کچھ کلو میڑ فاصلہ طے کرنے کے بعد دائیں جانب بغیر اسفالٹ کے پتھریلا رستہ پیرکچھیاں اور قلعہ تلاجھا”کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یہ دونوں مقام مین شاہراہ سے تقریباََ 12 سے 15کلومیٹر پر ہیں۔ اگر ان مقامات پر جانا مقصود ہو تو کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے جانی چاہیے ۔ یہاں صرف ہائیکنگ کے ذریعہ ہی پہنچنا ممکن ہے۔ قلعہ تلاجھا نشیبی گاؤں نلی اور کھوڑہ کی سرحد پر پہاڑ کا الگ سے ایسا بلند حصّہ ہے۔ جہاں سے پہاڑ چاروں طرف سے کٹ کر نیچے چلاجاتا ہے۔ اس لئے قلعہ کے اندر واحد قدرتی داخلی راستے کے علاوہ کسی طور پر بھی داخل ہونا ممکن نہیں، قلعہ تلاجھا کے بارے میں مشہور ہے کہ پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ نے دُشمن سے محفوظ رہنے کے لئے یہاں مختصر سا قلعہ بنایا تھا۔ لیکن اُس کے دُشمن نے تُلاجھا سے قدرے بلند عقبی پہاڑ سے تیر اور پتھر برسا کر اُس کا کام تمام کردیا۔ البتہ یہاں رہائش کے لئے بنائی جانے والی بڑی اور چوڑی دیواریں دیکھنے والوں کو آج بھی حیران کر دیتی ہیں کہ آخر اتنے بڑے اور وزنی پتھر ایک دوسرے پر جوڑنے کس طرح ممکن ہوئے۔اور صدیاں گزرنے کے باوجود جس کی باقیادت ابھی تک موجود ہیں۔قلعہ تلاجھا سے دامنِ پہاڑ کے گاؤں مہرہ ،نلی، مہلوال، ناڑی، کٹھہ ،منگوال ،دئیوال سمیت دیگر میدانی بستیوں کا نظارہ کیا جا سکتاہے۔ قلعہ کے قریب ہی بابا ناڑے والا کے نام سے منسوب مقام پر دو بلند پہاڑی حصوں کے درمیان صدیوں سے جاری صحت بخش، ذائقہ دار اور صاف شفاف چشمہ کے پانی سے دامن پہاڑ میں وسیع رقبے پر مشتمل آبادی اللہ رب العزت کی رحمت سے مستفید ہو رہی ہے ۔ اس چشمہ کے اردگر بے شمار سرسبز گھنے درخت اور پرندوں کے گیت یادوں میں ہمیشہ کے لئے ثبت ہو جانے والا خوبصورت سماں پیدا کرتے ہیں ۔

وادی سون کا بُلندترین، سرسبز، خوبصورت اور پورے وسطی پنجاب میں سردیوں کے موسم میں برف باری کا واحد مقام سکیسر سطح سمندر سے 5010 فٹ(1530میٹر) بلند ہے ۔ یہ سلسلہ کوہِ نمک میں قدرتی طور پر بلند اور واضح جگہ پر واقع ہے اس کی قدرتی خوبی کو مد نظر رکھتے ہوئے دفاعی نقطہ نظرکی اہمیت کے حامل دلکش مقام سکیسر کو 1950ء کی دہائی میں پاکستان ائیر فورس بیس میں تبدیل کر دیا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن براڈکاسٹنگ کا سنٹر بھی اس علاقے میں عوام تک نشریات پہنچانے کے لئے سکیسر میں قائم کیا گیا ہے۔

سکیسر میں شدید سردی اور اکثر اوقات برف باری بھی ہوتی رہتی ہے، لیکن باقی وادی کا موسم گرمیوں میں خوشگوارٹھنڈا، اور سردیوں میں نشیبی علاقوں کی نسبت زیادہ سرد ہوتا ہے۔اس علاقے کی آب و ہوا پولٹری صنعت کے لئے بھی انتہائی موزوں ہے ۔اس کے علاوہ یہاں کا قدرتی شہد پورے پاکستان میں مشہور ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں