آزادی صحافت کے علمبردار کا آزادی صحافت پر قدغن

مغرب بالخصوص امریکہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کا چیمپئن بنا پھرتا ہے مگر امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مستقل اقدامات اس بات کی نفی کرتے نظر آرہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد اپنی پہلی آفیشل میڈیا بریفنگ سے انہوں نے ایک رپورٹر کو جبری طور پر باہر نکلوا دیا تھا جبکہ گذشتہ روز بھی ایسا ہی واقعہ سامنے آیا ہے۔

مسلمانوں اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے تارکین وطن پر امریکی سرزمین تنگ کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا میڈیا کے ساتھ ناروا سلوک شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور گذشتہ روز وائٹ ہاؤس کی ایک غیر رسمی بریفنگ سے دنیا کے کئی اہم براڈ کاسٹرز اور اخباری نمائندگان کو نکال باہر کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ’’گیگل‘‘ کہلانے والی غیر رسمی بریفنگ سے پہلے وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں نے سی این این، نیویارک ٹائمز، بی بی سی اور دوسرے بڑے میڈیا ہاؤسز کے صحافتی نمائندوں کو باہر نکال دیا جبکہ یہ میڈیا بریفنگ بھی مرکزی پریس روم کے بجائے ایک چھوٹے کمرے میں دی گئی۔

پریس سیکریٹری وائٹ ہاؤس شون اسپائسر نے ان صحافیوں کے نکالے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی جس پر ایسوسی ایٹڈ پریس، یو ایس اے ٹو ڈے اور ٹائم میگزین کے نمائندوں نے بھی اس بریفنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک تقریر میں میڈیا پر تنقید کی اور کہا کہ ’’جعلی خبریں‘‘ لوگوں کی ’’دشمن‘‘ ہیں جبکہ اس سے قبل انہوں نے سی این این اور نیو یارک ٹائمز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

دوسری طرف ایک اور تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے میڈیا پر امریکیوں کا دشمن ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ رپورٹرز نامعلوم ذرائع کے حوالے سے خبریں دینے سے گریز کریں۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف بی آئی ملکی سیکیورٹی سے متعلق اہم معلومات لیک ہونے سے بچانے کے معاملے میں نا اہل ہے۔ ایسی معلومات افشا کرنے والے کوئی اور نہیں خود ایف بی آئی میں موجود ہیں جو میڈیا کو اہم اور حساس معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں