بچوں پر تشدد: 11 اداروں کو نگرانی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ

نیویارک: جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گیوٹیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 11 اداروں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی شامل ہے، ان ممالک اور عسکری تنظیموں کی فہرست میں شامل کریں جو بچوں پر تشدت کی ذمہ دار ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق بچوں اور جنگ زدہ علاقوں کی مجوزہ نگرانی فہرست میں یمن جنگ میں فریق سعودی اتحاد کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس اتحاد کا نام گذشتہ سال سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کے متعدد پروگرامز کیلئے جاری کیے جانے والے فنڈز کو روکنے کی دھمکی کے بعد فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

زیر نگرانی فہرست میں اسرائیلی فورسز کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا جنھیں امریکی اور اسرائیلی لابی کے باعث 2015 میں فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو بچوں کو قتل اور زخمی کرنے جبکہ غزہ اور مغربی کنارے کے علاقوں میں ہسپتالوں پر حملے کرنے پر فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ جنوبی تھائی لینڈ کی ہتھیار بند اپوزیشن کو بھی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں کی ذمہ دار ہیں، اس کے علاوہ ہندوستان میں بچوں کو بھرتی اور ان کا استعمال کرنے والی کمیونسٹ ماؤ باغی جماعت، افغانستان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز اور حکومت کی حامی ملیشیا کو نوجوانوں کو بھرتی، قتل اور زخمی کرنے پر فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دیگر مجوزہ گروپوں میں عراق کی پاپولر لام فورسز، لیبیا کی نیشنل آرمی، جنوبی سوڈان میں جانسن واونی کا مسلح گروپ، تحریک طالبان پاکستان، مالی میں حکومت کے حلیف گروپ جی اے ٹی آئی اے یا GATIA اور ایک اتحاد جو آزاواد یا Azawad تحریکوں کے تعاون کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں