شمالی کوریا: بلیسٹک میزائل کی تصدیق، عالمی طاقتیں برہم

سیئول: شمالی کوریا نے درمیانے سے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کی تصدیق کردی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے اسلحہ پروگرام میں مزید اضافے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کو ساتھ لے جانے کی صلاحیت سے لیس میزائل ‘Pukguksong-2’ کا تجربہ رہنما کم جونگ ان کی نگرانی میں کیا گیا۔

کے سی این اے کے مطابق ہمسایہ ممالک کی حفاطت کو مدنظر رکھتے ہوئے میزائل کو اونچے زاویئے سے فائر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز (12 فروری) جنوبی کورین فوج کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ میزائل شمالی کوریا کے مغربی علاقے سے صبح آٹھ بجے سے قبل لانچ کیا گیا جو 500 کلو میٹر تک سفر کرنے کے بعد بحیرہ جاپان میں گرا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا مزید بتانا تھا کہ میزائل کو سولڈ فیول انجن کی مدد سے فائر کیا گیا، جبکہ یہ میزائل اگست 2016 میں تجربہ کیے گئے سب میرین لانچڈ بیلسٹک میزائل کی جدید قسم ہے۔

تجربے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے عہدیدار کے مطابق امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل سے اس معاملے پر فوری اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب جاپان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر بھی بات چیت کی جائے گی، جبکہ چین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے اس اقدام پر کوئی ‘تعمیری’ کردار ادا کرے۔

خیال رہے کہ چین اپنے ہمسایہ ملک شمالی کوریا کا ایک اہم اتحادی ہے تاہم پیونگ یانگ کی جانب سے کی جانے والی مسلسل اشتعال انگیزی سے نالاں بھی ہے، اس کے باوجود چین، امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف سختی کے مطالبات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں