ترک فوجیوں کی ہلاکت پر پیوٹن کا افسوس

ترک فوج کی جانب سے جاری ایک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو شام میں روسی طیاروں کی غلطی سے بمباری کے نتیجے میں ترکی کے تین فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک فوجی حکام کے مطابق یہ واقعہ شمالی شام کے الباب شہر میں پیش آیا جہاں ترک اور روسی فوجی داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔ ادھر روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ ترک فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ رابطہ نہ ہونے کے نتیجے میں غلطی سے پیش آیا ہے۔

ماسکو کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پوتن نے اپنے ترک ہم منصب طیب ایردوآن سے فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کرملین کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن نے شام میں غلطی سے بمباری کے دوران تین ترک فوجیوں کی ہلاکت پر ترک حکومت سے تعزیت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک فوجیوں کی شام میں ہلاکت کے واقعے کے بعد صدر پوتن نے رجب طیب ایردوآن کو ٹیلفیون کیا اور ان سے فوجیوں کے غلطی سے مارے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں رہ نماؤں نے داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اناطولیہ‘ کے مطابق الباب شہر میں داعش کے خلاف جاری لڑائی کےدوران ترکی کے مزید پانچ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اور گذشتہ دو روز کے دوران فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

الباب شہرمیں ترک فوج اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیا کی داعش کے خلاف جنگ میں جیسے جیسے شدت آرہی ہے ترک فوجیوں کا جانی نقصان بھی بڑھ رہا ہے۔ داعش کے خلاف لڑائی کے دوران 10 ترک فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز کم سے کم پانچ ترک فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے’دوگان‘ کےمطابق گذشتہ برس اگست کے بعد سے شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں اب تک 66 ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

بدھ کے روز ترک حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلان بیان میں کہا گیا تھا کہ الباب شہر میں ترک فوج نے اہم پیش رفت کی ہے۔ اگلے مرحلے میں الباب کو داعش سےچھڑانے کے بعد ترک فوج داعش کے گڑھ الرقہ کی طرف پیش قدمی کرے گی۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ الباب شہر مکمل طور پر ترک فوج اور اس کی حامی فورسز کے محاصرے میں ہے اور اسے جلد ہی داعش سے چھڑا لیا جائےگا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں